افغانستان میں طالبان مخالف مسلح گروہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف علاقوں میں 50 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں درجنوں طالبان جنگجوؤں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا کہا گیا ہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ، یونائیٹڈ فرنٹ اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مطابق اگست کے دوران طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔ گروہوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں گوریلا حملوں سے بڑھ کر براہِ راست جھڑپوں تک پہنچ گئی ہیں۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق 23 جولائی سے 22 اگست کے دوران 8 صوبوں میں 21 کارروائیاں کی گئیں، جن میں 65 طالبان ارکان ہلاک اور تقریباً 90 زخمی ہوئے۔ گروہ کے مطابق بدخشاں کا ضلع زیبک کارروائیوں کا مرکزی مرکز رہا، جبکہ بغلان، کابل، قندھار، ننگرہار، فاریاب، نورستان اور پنجشیر میں بھی حملے کیے گئے۔
یونائیٹڈ فرنٹ نے یکم اگست کو طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ گروہ کے مطابق 20 اگست تک قندھار، ہلمند، بادغیس، غور اور فاریاب سمیت مختلف علاقوں میں تقریباً 20 حملے کیے گئے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے 29 جولائی سے 29 اگست کے دوران بدخشاں، قندوز، ہرات اور بغلان میں 9 حملوں کا دعویٰ کیا۔ گروہ کے مطابق 13 اگست کو فیض آباد کے طالبان مقرر کردہ میئر حبیب الرحمان منصور اور ان کے محافظوں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق طالبان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 20 اگست کو شمالی سالنگ میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے اہم کمانڈر حسیب پنجشیری اور ان کے ساتھیوں کو ایک جھڑپ میں ہلاک کردیا۔
بدخشاں کے زیبک، یفتل، کشم اور یمگان اضلاع حالیہ لڑائی کے اہم مراکز بن گئے ہیں۔ طالبان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حکمت عملی محدود گوریلا حملوں سے براہِ راست لڑائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔