"> افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت تیز، کئی صوبوں میں کارروائیاں
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دس افغان صوبوں میں کارروائیاں، طالبان مخالف مزاحمت میں نئی لہر

افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی، بدخشاں، قندھار، ہلمند، ہرات اور دیگر صوبوں میں طالبان اہلکاروں اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بنانے کے دعوے۔
افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت تیز، کئی صوبوں میں کارروائیاں

افغانستان: طالبان کے خلاف مزاحمت تیز ہوگئی، بدخشاں، قندھار، ہلمند، ہرات سمیت کئی صوبوں میں طالبان اور سکیورٹی مراکز پر حملوں کے دعوے۔

August 31, 2026

افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔ گزشتہ چند روز میں 10 صوبوں سے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

کابل، کنڑ، بدخشاں، قندھار اور فاریاب بھی ان علاقوں میں شامل ہیں۔ غور، ننگرہار، غزنی، لغمان اور ہرات میں بھی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔

مختلف گروہوں کی کارروائیاں

افغان فریڈم فرنٹ، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان گرین ٹرینڈ نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔

گروہوں کے مطابق طالبان کی چیک پوسٹوں، سکیورٹی مراکز اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

اٹھائیس اگست کو افغان فریڈم فرنٹ نے غزنی میں کارروائی کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق طالبان یونٹ 06 کے نائب کمانڈر ملا عمر صادق ہلاک ہوئے۔

بدخشاں کے ضلع زیبک میں بھی کئی گھنٹے جھڑپ جاری رہی۔ مزاحمتی گروپ کے مطابق طالبان نے کابل سے اضافی اہلکار بھیجے۔ تاہم انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔

لغمان میں افغانستان گرین ٹرینڈ نے طالبان کی رینجر یونٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ طالبان پولیس دستاویزات سے منسوب اطلاعات کے مطابق 9 اہلکار ہلاک ہوئے۔

ہرات میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان کے الفاروق کور پر حملے کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق طالبان کا انٹیلی جنس کمانڈر زخمی ہوا۔

طالبان اہلکاروں کی ہلاکت

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے 30 اگست کو ہلمند، نوزاد اور کنڑ میں کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق ہلمند میں 3 اور نوزاد میں 6 طالبان اہلکار ہلاک ہوئے۔

اسعدآباد میں طالبان پولیس مرکز کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔ جلال آباد، فاریاب، غور اور قندھار میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مزاحمتی گروہوں کے مطابق ان کارروائیوں میں 27 طالبان اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔ حالیہ کارروائیوں کا دائرہ بدخشاں سے قندھار اور ہلمند تک پھیل گیا ہے۔ کابل، ننگرہار اور ہرات بھی ان کارروائیوں میں شامل ہیں۔

مسلسل حملوں کے یہ دعوے طالبان کے سکیورٹی ڈھانچے پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی طالبان مخالف مسلح مزاحمت کا دائرہ بھی وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *