افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔ گزشتہ چند روز میں 10 صوبوں سے حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
کابل، کنڑ، بدخشاں، قندھار اور فاریاب بھی ان علاقوں میں شامل ہیں۔ غور، ننگرہار، غزنی، لغمان اور ہرات میں بھی کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔
مختلف گروہوں کی کارروائیاں
افغان فریڈم فرنٹ، افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان گرین ٹرینڈ نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔
گروہوں کے مطابق طالبان کی چیک پوسٹوں، سکیورٹی مراکز اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اٹھائیس اگست کو افغان فریڈم فرنٹ نے غزنی میں کارروائی کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق طالبان یونٹ 06 کے نائب کمانڈر ملا عمر صادق ہلاک ہوئے۔
بدخشاں کے ضلع زیبک میں بھی کئی گھنٹے جھڑپ جاری رہی۔ مزاحمتی گروپ کے مطابق طالبان نے کابل سے اضافی اہلکار بھیجے۔ تاہم انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔
لغمان میں افغانستان گرین ٹرینڈ نے طالبان کی رینجر یونٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ طالبان پولیس دستاویزات سے منسوب اطلاعات کے مطابق 9 اہلکار ہلاک ہوئے۔
ہرات میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے طالبان کے الفاروق کور پر حملے کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق طالبان کا انٹیلی جنس کمانڈر زخمی ہوا۔
طالبان اہلکاروں کی ہلاکت
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے 30 اگست کو ہلمند، نوزاد اور کنڑ میں کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔ گروپ کے مطابق ہلمند میں 3 اور نوزاد میں 6 طالبان اہلکار ہلاک ہوئے۔
اسعدآباد میں طالبان پولیس مرکز کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔ جلال آباد، فاریاب، غور اور قندھار میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
مزاحمتی گروہوں کے مطابق ان کارروائیوں میں 27 طالبان اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔ حالیہ کارروائیوں کا دائرہ بدخشاں سے قندھار اور ہلمند تک پھیل گیا ہے۔ کابل، ننگرہار اور ہرات بھی ان کارروائیوں میں شامل ہیں۔
مسلسل حملوں کے یہ دعوے طالبان کے سکیورٹی ڈھانچے پر بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی طالبان مخالف مسلح مزاحمت کا دائرہ بھی وسیع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔