"> باجوڑ میں داعش خراسان کا دعویٰ، پراپیگنڈا تیز
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

باجوڑ: سکیورٹی آپریشنز کے بعد داعش خراسان کا حملے کا دعویٰ پراپیگنڈا مہم قرار

داعش خراسان کا باجوڑ میں انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ کے تناظر میں تنظیم کے پراپیگنڈا پر سوالات اٹھ گئے۔
باجوڑ میں داعش خراسان کا دعوی

باجوڑ میں کارروائی کا داعش خراسان کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ اور تنظیم کے بڑھتے پراپیگنڈا پر اہم نکات سامنے آگئے۔

August 31, 2026

داعش خراسان نے باجوڑ میں ایک مبینہ انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں اس کے خلاف سکیورٹی کارروائیاں جاری ہیں۔

داعش خراسان گزشتہ عرصے میں پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کا تاثر قائم رکھنے کے لیے مختلف دعوے سامنے لاتی رہی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیانات کو اپنے اثر و رسوخ اور کارروائی کی صلاحیت ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز کی مسلسل انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں سے داعش خراسان پر دباؤ بڑھا ہے۔ ان کارروائیوں میں تنظیم کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

سکیورٹی دباؤ کے باعث داعش خراسان کے لیے پاکستان میں منظم اور مستقل آپریشنل موجودگی قائم کرنا مشکل ہوا ہے۔ ایسے حالات میں تنظیم کا پراپیگنڈا اپنی موجودگی کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے اہم ذریعہ بن رہا ہے۔

بین الاقوامی سکیورٹی جائزوں کے مطابق افغانستان داعش خراسان کی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔ پاکستان میں کارروائیوں کے دعوے تنظیم کی جانب سے اپنے اثر و رسوخ کو افغانستان سے باہر ظاہر کرنے کی کوشش بھی سمجھے جاتے ہیں۔

داعش خراسان کے بیانات میں بعض اوقات محدود نوعیت کے واقعات کو نمایاں کرکے اپنے نیٹ ورک کے پھیلاؤ کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا اور تنظیم کی عملی اہمیت کو برقرار رکھنا بھی ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب داعش کے وسیع تر نیٹ ورک کو مختلف خطوں میں سکیورٹی کارروائیوں اور اہم کمانڈروں کی ہلاکتوں کا سامنا ہے۔ اس دباؤ کے ماحول میں پراپیگنڈا تنظیموں کے لیے اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کا تاثر برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ بن جاتا ہے۔

پاکستان کے سکیورٹی ادارے دہشت گرد تنظیموں کے دعوؤں کے بجائے زمینی شواہد اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر خطرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی توجہ داعش خراسان سمیت دہشت گرد گروہوں کے نیٹ ورک کو توڑنے اور ان کی سرگرمیوں کو روکنے پر مرکوز ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *