داعش خراسان نے باجوڑ میں ایک مبینہ انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں اس کے خلاف سکیورٹی کارروائیاں جاری ہیں۔
داعش خراسان گزشتہ عرصے میں پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کا تاثر قائم رکھنے کے لیے مختلف دعوے سامنے لاتی رہی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری بیانات کو اپنے اثر و رسوخ اور کارروائی کی صلاحیت ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز کی مسلسل انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں سے داعش خراسان پر دباؤ بڑھا ہے۔ ان کارروائیوں میں تنظیم کے نیٹ ورک، سہولت کاروں اور ممکنہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
سکیورٹی دباؤ کے باعث داعش خراسان کے لیے پاکستان میں منظم اور مستقل آپریشنل موجودگی قائم کرنا مشکل ہوا ہے۔ ایسے حالات میں تنظیم کا پراپیگنڈا اپنی موجودگی کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے اہم ذریعہ بن رہا ہے۔
بین الاقوامی سکیورٹی جائزوں کے مطابق افغانستان داعش خراسان کی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے۔ پاکستان میں کارروائیوں کے دعوے تنظیم کی جانب سے اپنے اثر و رسوخ کو افغانستان سے باہر ظاہر کرنے کی کوشش بھی سمجھے جاتے ہیں۔
داعش خراسان کے بیانات میں بعض اوقات محدود نوعیت کے واقعات کو نمایاں کرکے اپنے نیٹ ورک کے پھیلاؤ کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا اور تنظیم کی عملی اہمیت کو برقرار رکھنا بھی ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب داعش کے وسیع تر نیٹ ورک کو مختلف خطوں میں سکیورٹی کارروائیوں اور اہم کمانڈروں کی ہلاکتوں کا سامنا ہے۔ اس دباؤ کے ماحول میں پراپیگنڈا تنظیموں کے لیے اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کا تاثر برقرار رکھنے کا اہم ذریعہ بن جاتا ہے۔
پاکستان کے سکیورٹی ادارے دہشت گرد تنظیموں کے دعوؤں کے بجائے زمینی شواہد اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر خطرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی توجہ داعش خراسان سمیت دہشت گرد گروہوں کے نیٹ ورک کو توڑنے اور ان کی سرگرمیوں کو روکنے پر مرکوز ہے۔