ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔۔۔۔ کا نعرہ کشمیر کی سیاست میں ایک ایسی آواز کے طور پر گونجتا رہا جسے سید علی شاہ گیلانی نے اپنی سیاسی شناخت بنا لیا تھا۔ تقریباً سات دہائیوں تک کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کرنے والے قائدِ حریت سید علی شاہ گیلانی کی پانچویں برسی آج یکم ستمبر کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔
سید علی شاہ گیلانی کی برسی کے موقع پر پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور کشمیری حلقوں میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کی طویل سیاسی جدوجہد، ثابت قدمی اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اختیار کیے گئے مؤقف کو یاد کیا جا رہا ہے۔ گیلانی نے اپنی زندگی کے کئی عشرے ایسے حالات میں گزارے جہاں انہیں گرفتاری، قید، نظر بندی اور سیاسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان مشکلات کے باوجود وہ اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔
سید علی شاہ گیلانی نے کم عمری میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ 1972، 1977 اور 1987 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ ایک وقت میں پارلیمانی سیاست کا حصہ رہنے والے گیلانی بعد ازاں اس راستے سے الگ ہوگئے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو اپنی سیاسی زندگی کا بنیادی مقصد بنا لیا۔
حریت سیاست میں ان کا کردار انتہائی نمایاں رہا۔ وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور کشمیر کے مسئلے پر اپنے دوٹوک مؤقف کے باعث ایک الگ شناخت رکھتے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ کشمیر کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ اسی مؤقف کی وجہ سے وہ بھارتی حکومت کی سخت تنقید کا نشانہ بھی بنتے رہے۔
ان کی سیاسی زندگی کا ایک بڑا حصہ پابندیوں اور قید و بند میں گزرا۔ مختلف ادوار میں انہیں گرفتار کیا گیا اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا۔ عمر کے آخری برسوں میں ان کی نقل و حرکت مزید محدود ہوگئی اور انہیں طویل عرصے تک سری نگر کے علاقے حیدرپورہ میں واقع اپنے گھر میں نظر بند رکھا گیا۔
طویل نظر بندی کے باوجود سید علی شاہ گیلانی کی جانب سے اپنے سیاسی مؤقف میں تبدیلی نہیں کی گئی۔ بڑھتی عمر اور صحت کے مسائل کے باوجود ان کی سیاسی وابستگی اور نظریاتی موقف برقرار رہا۔ یکم ستمبر 2021 کو وہ حیدرپورہ میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کے بعد بھی کشمیری سیاسی اور حریت حلقوں میں ان کی جدوجہد اور سیاسی ورثے کو مسلسل یاد کیا جاتا رہا۔
سید علی شاہ گیلانی کی سیاسی شناخت کا ایک اہم حوالہ ان کا مشہور نعرہ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے بھی ہے۔ ان کے حامیوں کے لیے یہ نعرہ محض الفاظ نہیں بلکہ ان کے سیاسی اور نظریاتی مؤقف کی نمائندگی کرتا تھا۔ گیلانی نے اپنی سیاسی زندگی میں پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کا بارہا اظہار کیا اور کشمیر کے مسئلے کو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے تناظر میں پیش کیا۔
سید علی شاہ گیلانی کی زندگی کو دیکھا جائے تو ان کی جدوجہد کا ایک نمایاں پہلو مستقل مزاجی تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے مختلف مراحل میں حالات کو بدلتے دیکھا، پارلیمانی سیاست میں حصہ لیا، پھر اس سے علیحدگی اختیار کی اور حریت کی سیاست میں اپنا کردار ادا کیا۔ قید و بند اور نظر بندی کے طویل ادوار بھی ان کے بنیادی سیاسی مؤقف کو تبدیل نہ کر سکے۔
آج جب ان کی پانچویں برسی منائی جا رہی ہے تو ان کے سیاسی ورثے کے ساتھ ساتھ موجودہ کشمیری نسل کی ذمہ داری بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ جو نوجوان اور کارکن سید علی شاہ گیلانی کو اپنا قائد اور رہنما مانتے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو صرف نعروں کی حد تک نہ دیکھیں بلکہ ان کی تاریخ، سیاسی سوچ اور نظریاتی وابستگی کو سمجھیں۔
اگر موجودہ نسل خود کو گیلانی کا پیروکار سمجھتی ہے تو اسے ان کے نقشِ قدم سے سیکھنے کی ضرورت ہے کہ مشکل حالات میں اپنے اصولوں پر کیسے قائم رہا جاتا ہے۔ بزرگوں نے جن حالات میں اپنی آواز بلند کی، موجودہ نسل کے پاس اپنی بات دنیا تک پہنچانے کے لیے جدید ذرائع بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تعلیم اور تحقیق کے ذریعے نوجوان کشمیر کے مسئلے سے متعلق اپنی آواز عالمی سطح تک پہنچا سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے جذبات کے ساتھ ساتھ شعور، ذمہ داری اور درست معلومات بھی ضروری ہیں۔
سید علی شاہ گیلانی کی جدوجہد کو یاد کرنے کا مطلب صرف ان کی برسی منانا نہیں بلکہ ان کے سیاسی سفر اور قربانیوں سے سبق حاصل کرنا بھی ہے۔ ان کے حامیوں اور کارکنوں کے لیے یہ موقع اس عزم کی تجدید کا بھی ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کی جدوجہد کو فراموش نہیں کریں گے اور آنے والی نسلوں کو بھی اس تاریخ سے آگاہ کرتے رہیں گے۔
پانچ برس گزرنے کے باوجود سید علی شاہ گیلانی کا نام کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں حوالہ ہے۔ ان کی آواز، ان کا مشہور نعرہ اور ان کی طویل سیاسی جدوجہد آج بھی ان کے حامیوں کے لیے ایک نظریاتی ورثہ سمجھی جاتی ہے۔ ان کی پانچویں برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے پیروکار ایک بار پھر ان کی جدوجہد اور ثابت قدمی کو یاد کر رہے ہیں۔
میری رائے میں سید علی شاہ گیلانی کی زندگی کا سب سے بڑا سبق ان کی نظریاتی ثابت قدمی ہے۔ تقریباً سات دہائیوں پر محیط سیاسی سفر میں حالات بارہا تبدیل ہوئے، لیکن انہوں نے اپنے مؤقف سے دستبردار ہونے کے بجائے اسے اپنی جدوجہد کا مرکز بنائے رکھا۔ آج کی نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ گیلانی کو صرف ایک نعرے یا سیاسی شخصیت کے طور پر نہ دیکھے بلکہ ان کی پوری زندگی، سیاسی سوچ اور جدوجہد کا مطالعہ کرے۔
موجودہ دور میں نوجوانوں کے پاس سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تعلیم اور تحقیق جیسے مؤثر ذرائع موجود ہیں، اس لیے کشمیر کے مسئلے پر آواز بلند کرتے ہوئے جذبات کے ساتھ شعور، دلیل اور درست معلومات کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ یہی کسی بھی سیاسی ورثے کو زندہ رکھنے کا زیادہ مؤثر اور ذمہ دارانہ طریقہ ہو سکتا ہے۔