فتنة الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے سرفراز بگٹی کے بیان کی تحریف اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔

September 3, 2026

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ بی وائی سی کے رہنما سیاسی قیدی نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار کے قتل اور تشدد کی سہولت کاری میں سزا یافتہ مجرم ہیں۔

September 3, 2026

ایرانی فوج نے امریکہ کو جواب دیتے ہوئے کویت اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

September 3, 2026

افغانستان کی اسلامی تحریکِ آزادی نے ہرات کے آریانا محلے میں طالبان کے انٹیلی جنس رکن قاری عبداللہ کو ٹارگٹڈ حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کر دیا۔

September 3, 2026

کوئٹہ کے علاقے مسلم آباد میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے معروف تاجر حاجی صلاح الدین نورزئی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔

September 3, 2026

ای پی اے کی مبینہ بھتہ خوری اور شاہانہ اخراجات، 180 ارب کی مبینہ بے ضابطگیوں نے کے پی حکومت کی گڈ گورننس کے دعوؤں پر سوال اٹھا دیے

September 3, 2026

معرکۂ جوڑیاں: 3 ستمبر 1965 کا فیصلہ کن دن

تین ستمبر 1965 کو چھمب کے بعد جوڑیاں کے محاذ پر پاک فوج کی پیش قدمی نے بھارتی دفاع کی بنیادیں ہلا دیں اور معرکے کا رخ متعین کر دیا۔
معرکہ جوڑیاں: 3 ستمبر 1965

تین ستمبر 1965 کو چھمب کی فتح کے بعد پاک فوج نے جوڑیاں کا محاذ فتح کرنے کے لیے پیش قدمی کی اور بھارتی دفاعی مورچوں کو تباہ کر دیا۔

September 3, 2026

جنگ کے میدان میں بعض دن صرف کیلنڈر کا حصہ نہیں رہتے، بلکہ تاریخ کا رخ متعین کرتے ہیں۔ 3 ستمبر 1965 بھی ایسا ہی ایک دن تھا، جب چھمب کی کامیابی کے بعد پاک فوج نے اپنے اگلے ہدف کی طرف قدم بڑھائے اور جوڑیاں کا محاذ ایک فیصلہ کن معرکے میں تبدیل ہونے لگا۔

3 ستمبر کی صبح محاذ پر صورتحال تیزی سے بدل رہی تھی۔ چھمب میں کامیابی کے بعد پاکستانی فوج کے حوصلے بلند تھے، جبکہ نئی کمان کے تحت اگلی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ میجر جنرل یحییٰ خان نے اس مرحلے میں کمان سنبھالی اور فوجی دستوں کو جوڑیاں کی سمت پیش قدمی جاری رکھنے کے احکامات دیے۔

دوسری جانب بھارتی فوج بھی پاکستانی پیش قدمی کا راستہ روکنے کے لیے اپنی دفاعی پوزیشنیں مضبوط کر رہی تھی۔ بھارتی دسویں ڈویژن نے اخنور کے اطراف اپنی پوزیشنیں تبدیل کیں، 41ویں ماؤنٹین بریگیڈ کو جوڑیاں اور تروتی کے پہاڑی علاقوں میں تعینات کیا گیا، جبکہ پٹھانکوٹ سے اضافی ٹینک دستے بھی طلب کیے گئے۔ اس طرح جوڑیاں کا علاقہ ایک بڑے عسکری مقابلے کے لیے تیار ہو چکا تھا۔

دوپہر کے وقت پاکستانی دسویں بریگیڈ کو ایک ٹینک رجمنٹ کے ہمراہ جوڑیاں کی جانب بڑھنے کا حکم دیا گیا۔ فوجی دستوں کو راستے میں دشوار گزار جغرافیہ، پہاڑی علاقوں، دریاؤں اور تنگ راستوں کے باعث سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی فوج نے بھی اپنے دفاعی مورچوں سے شدید مزاحمت کی، لیکن پاکستانی دستوں نے دباؤ برقرار رکھا اور مرحلہ وار آگے بڑھتے رہے۔

یہ محض زمین کے ایک حصے پر قبضے کی جنگ نہیں تھی۔ جوڑیاں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ اس علاقے کی صورتحال کا براہِ راست تعلق اخنور اور اس کے اطراف کے دفاع سے تھا۔ اسی لیے بھارتی فوج نے اس محاذ کو مضبوط رکھنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتیں استعمال کیں۔ جیسے جیسے پاکستانی پیش قدمی آگے بڑھتی گئی، بھارتی قیادت کے لیے صورتحال مزید تشویش ناک ہوتی گئی اور اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔

3 ستمبر کا سورج غروب ہوا تو معرکہ ختم نہیں ہوا تھا، بلکہ لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ پاکستانی فوج جوڑیاں کی سمت اپنی پیش قدمی جاری رکھے ہوئے تھی اور اگلے دن کے لیے میدان مزید اہم ہو چکا تھا۔ 4 ستمبر کو لڑائی نے مزید شدت اختیار کی اور جوڑیاں کے دفاعی علاقے پر دباؤ بڑھتا گیا

میرے نزدیک 3 ستمبر 1965 کی سب سے اہم بات صرف یہ نہیں کہ فوج کس علاقے کی طرف پیش قدمی کر رہی تھی، بلکہ یہ ہے کہ جنگ کے مشکل ترین حالات میں قیادت، نظم و ضبط اور جوانوں کا حوصلہ کس طرح کسی بھی معرکے کی سمت متعین کرتا ہے۔ تاریخ کو صرف فتح یا شکست کے خانوں میں دیکھنے کے بجائے ہمیں ان واقعات سے حکمتِ عملی، قربانی اور قومی دفاع کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔

آج کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود 1965 کی جنگ کے یہ واقعات اس بات کی یاد دلاتے ہیں کہ قوموں کی تاریخ صرف بڑے سیاسی فیصلوں سے نہیں بنتی؛ کبھی کبھی سرحد پر کھڑا ایک سپاہی، ایک فیصلہ کن حکم اور مشکل وقت میں ثابت قدم رہنے والا حوصلہ بھی تاریخ کا ایک اہم باب لکھ دیتا ہے۔

دیکھیے: پاکستان مسلم دنیا کا ابھرتا ہوا دفاعی محور

متعلقہ مضامین

فتنة الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے سرفراز بگٹی کے بیان کی تحریف اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔

September 3, 2026

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ بی وائی سی کے رہنما سیاسی قیدی نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار کے قتل اور تشدد کی سہولت کاری میں سزا یافتہ مجرم ہیں۔

September 3, 2026

ایرانی فوج نے امریکہ کو جواب دیتے ہوئے کویت اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

September 3, 2026

افغانستان کی اسلامی تحریکِ آزادی نے ہرات کے آریانا محلے میں طالبان کے انٹیلی جنس رکن قاری عبداللہ کو ٹارگٹڈ حملے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کر دیا۔

September 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *