"> فتنہ الہندوستان کا گمراہ کن بیانیہ بے نقاب
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

فتنہ الہندوستان کا گمراہ کن بیانیہ: سکیورٹی اداروں کے خلاف پراپیگنڈے کی حقیقت سامنے آ گئی

فتنة الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے سرفراز بگٹی کے بیان کی تحریف اور سکیورٹی فورسز کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا۔
فتنة الہندوستان کا گمراہ کن بیانیہ بے نقاب

بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کا ریاستی اقدامات کے خلاف گمراہ کن بیانیہ بے نقاب۔ حقائق سامنے آ گئے۔

September 3, 2026

بلوچستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے عناصر اور فتنہ الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے ریاست اور سکیورٹی اداروں کے خلاف چلایا جانے والا گمراہ کن پراپیگنڈا مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے سہولت کار وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی سکیورٹی وارننگ کو دانستہ طور پر توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں تاکہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والی املاک کو قانونی کارروائی سے بچایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے کسی قبیلے یا عام زمیندار کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ واضح کیا تھا کہ دہشت گردوں کو پناہ گاہیں اور سہولت فراہم کرنے والی نجی املاک کے خلاف بلاامتیاز قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

حقیقت کو مسخ کر کے اسے پوری بلوچ آبادی کے خلاف دھمکی قرار دینا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو اجتماعی سزا کا نام دینا محض عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی سازش ہے۔

یہ پراپیگنڈا اس وقت سامنے لایا جا رہا ہے جب سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے؛ حال ہی میں کھڈ کوچہ اور گارو کے علاقے میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں 6 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوئے۔

اس حملے کے چند ہی روز بعد سیب کے ایک باغ میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 4 بے گناہ مزدور جاں بحق اور 3 شدید زخمی ہوئے، مگر سہولت کاروں نے ان مقتولین کے لیے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔

سہولت کاروں کا دوہرا معیار یہ ہے کہ جب بھی ریاست دہشت گردوں کا گھیراؤ کرتی ہے تو اسے ظلم کا نام دیا جاتا ہے، لیکن جب بے گناہ بلوچ شہری، مزدور اور اسکول بسیں نشانہ بنتی ہیں تو یہ تمام آوازیں پراسرار خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔

ترقیاتی منصوبوں کے راستے کی کلیئرنس اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف یکسوئی سے کی جانے والی کارروائیوں کو باغات جلانے سے تعبیر کرنا دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔

غیر ملکی پشت پناہی سے چلنے والے یہ دہشت گرد نیٹ ورکس خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے پاک فوج اور انتظامیہ کے خلاف زہر اگلتے ہیں تاکہ اپنے سفاکانہ جرائم پر پردہ ڈال سکیں۔

ریاستی حکام نے واضح کیا ہے کہ دشمن کے اس پراکسی پراپیگنڈے کے باوجود شہریوں کا تحفظ، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور بلوچستان کی پائیدار ترقی ہر صورت جاری رہے گی۔

دیکھیے: کے پی میں کرپشن اور شاہانہ اخراجات کی داستان

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *