بلوچستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے عناصر اور فتنہ الہندوستان کے سہولت کاروں کی جانب سے ریاست اور سکیورٹی اداروں کے خلاف چلایا جانے والا گمراہ کن پراپیگنڈا مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق فتنہ الہندوستان کے سہولت کار وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی سکیورٹی وارننگ کو دانستہ طور پر توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں تاکہ دہشت گردی میں استعمال ہونے والی املاک کو قانونی کارروائی سے بچایا جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کسی قبیلے یا عام زمیندار کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ واضح کیا تھا کہ دہشت گردوں کو پناہ گاہیں اور سہولت فراہم کرنے والی نجی املاک کے خلاف بلاامتیاز قانونی ایکشن لیا جائے گا۔
حقیقت کو مسخ کر کے اسے پوری بلوچ آبادی کے خلاف دھمکی قرار دینا اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو اجتماعی سزا کا نام دینا محض عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی سازش ہے۔
یہ پراپیگنڈا اس وقت سامنے لایا جا رہا ہے جب سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے؛ حال ہی میں کھڈ کوچہ اور گارو کے علاقے میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں 6 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوئے۔
اس حملے کے چند ہی روز بعد سیب کے ایک باغ میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے 4 بے گناہ مزدور جاں بحق اور 3 شدید زخمی ہوئے، مگر سہولت کاروں نے ان مقتولین کے لیے ایک لفظ بھی نہیں بولا۔
سہولت کاروں کا دوہرا معیار یہ ہے کہ جب بھی ریاست دہشت گردوں کا گھیراؤ کرتی ہے تو اسے ظلم کا نام دیا جاتا ہے، لیکن جب بے گناہ بلوچ شہری، مزدور اور اسکول بسیں نشانہ بنتی ہیں تو یہ تمام آوازیں پراسرار خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں کے راستے کی کلیئرنس اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف یکسوئی سے کی جانے والی کارروائیوں کو باغات جلانے سے تعبیر کرنا دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
غیر ملکی پشت پناہی سے چلنے والے یہ دہشت گرد نیٹ ورکس خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے پاک فوج اور انتظامیہ کے خلاف زہر اگلتے ہیں تاکہ اپنے سفاکانہ جرائم پر پردہ ڈال سکیں۔
ریاستی حکام نے واضح کیا ہے کہ دشمن کے اس پراکسی پراپیگنڈے کے باوجود شہریوں کا تحفظ، دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور بلوچستان کی پائیدار ترقی ہر صورت جاری رہے گی۔