افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان رجیم کے اہلکاروں اور تنصیبات کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں طالبان اہلکاروں، انٹیلی جنس عناصر، چوکیوں اور لاجسٹک وسائل کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب طالبان رجیم سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں اور مقامی آبادی پر دباؤ میں اضافہ کر رہی ہے۔
5 ستمبر کو سازمانِ افقِ نو اور اندارب ریزسٹنس فرنٹ نے اندارب میں طالبان اہلکاروں کو مشترکہ طور پر نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تنظیموں کے مطابق کارروائی میں 3 طالبان اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔
اسی طرح 6 ستمبر کو اے یو ایف نے قندھار اور غزنی میں طالبان انٹیلی جنس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ دونوں کارروائیوں میں ایک، ایک اہلکار کی ہلاکت کا بتایا گیا ہے۔
5 ستمبر کو بدخشاں کے کیشم ضلع میں بھی طالبان کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔ دعوے کے مطابق یہ چوکی سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی گرفتاریوں میں ملوث تھی۔ مزاحمتی کارروائیوں کا دائرہ طالبان کے نفاذی ڈھانچے تک بھی پہنچ گیا ہے۔
4 ستمبر کو اے یو ایف نے ہلمند کے ناوہ ضلع میں طالبان کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تنظیم کے مطابق کارروائی میں 2 اہلکار ہلاک ہوئے۔
اس سے قبل 31 اگست کو افغان گرین ٹرینڈ نے شمالی سالنگ میں طالبان کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
کابل اور ہرات میں بھی کارروائیاں
نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے بھی طالبان کے خلاف متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق 5 ستمبر کو ہرات کے اسلام قلعہ میں طالبان انٹیلی جنس کے 2 اہلکار ہلاک کیے گئے۔ 4 ستمبر کو کابل کے پغمان ضلع میں بھی طالبان انٹیلی جنس کے 2 اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
2 ستمبر کو مہیپر میں طالبان کی 209ویں خالد بن ولید بریگیڈ سے منسلک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ کے مطابق حملے میں ٹینکر تباہ اور اس کا ڈرائیور ہلاک ہوا۔
دوسری جانب افغان ریپبلک فرنٹ نے 4 ستمبر کو پغمان میں طالبان کے ایک مضبوط مرکز پر دو دستی بم حملوں کا دعویٰ کیا۔
مزاحمتی کارروائیوں کا جغرافیائی دائرہ بدخشاں اور اندارب سے کابل، ہلمند، قندھار اور ہرات تک پھیل گیا ہے۔
ان کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان رجیم کو مختلف علاقوں میں سکیورٹی چیلنج کا سامنا ہے۔ مزاحمتی گروہوں کے مطابق طالبان کے دباؤ اور سخت گیر اقدامات کے باوجود ان کی کارروائیاں جاری ہیں۔