پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے دیرینہ برادرانہ تعلقات اب وسیع البنیاد ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے روابط محض رسمی سفارتی تعلقات تک محدود نہیں ہیں۔
کیونکہ یہ تاریخی تعلقات باہمی اعتماد اور ٹھوس بنیادوں پر قائم ہیں۔ اس لیے اب پاک یو اے ای اسٹریٹجک شراکت داری تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے۔
دونوں برادر ممالک نے دفاع، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کو بڑھایا ہے۔ علاوہ ازیں جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی نئے مشترکہ منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔
دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مسلسل رابطے تعلقات کو نیا رخ دے رہے ہیں۔
معاشی تعاون اور روزگار کے مواقع
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان روایتی تجارت پہلے سے جاری ہے، لیکن اب سرمایہ کاری کے حجم کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ مشترکہ معاشی اور تجارتی منصوبوں سے خطے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس لیے اقتصادی تعاون میں اضافہ دونوں برادر ممالک کے مفاد میں ہے۔ تاہم اس معاشی شراکت داری کو دیرپا بنانے کے لیے مسلسل سیاسی مشاورت ناگزیر ہے۔
دفاعی اور سکیورٹی تعاون بھی دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کا ایک بنیادی ستون ہے۔کیونکہ خطے کے بدلتے ہوئے حالات میں مشترکہ سیکیورٹی مشاورت نہایت اہم ہو چکی ہے۔
اس لیے دونوں ممالک علاقائی امن اور استحکام کے لیے اپنا سفارتی کردار جاری رکھیں گے۔ لیکن مستقبل کی اس شراکت داری میں باہمی اعتماد کو برقرار رکھنا ہی اولین ترجیح رہے گی۔
دیکھیے: مکہ معاہدہ دفاعی اتحاد ہے، سعودیہ کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا: دفتر خارجہ