انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی پر منظم بیانیہ پھیلانے کا انکشاف ہوا ہے۔ کیونکہ بی وائی سی سے وابستہ افراد کی گرفتاری پر سوشل میڈیا مہم چلائی جاتی ہے۔
گلزادی بلوچ کیس کی حالیہ سماعت کو بھی اسی انداز میں پیش کیا گیا۔ وکلا کی ہڑتال کے باعث وکیل صفائی عدالت میں موجود نہیں تھے۔ لیکن سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ جج شدید دباؤ میں ہیں۔
اس لیے ان غیر مصدقہ دعوؤں کو عدالتی نظام کی ناکامی بنا کر پیش کیا گیا۔ عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس مہم کے اوقات طے کیے گئے۔
اگرچہ ملزمان کی حراست اور مقدمات کا سرکاری ریکارڈ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ لیکن قانونی گرفتاری کو فوراً اغوا یا جبری گمشدگی قرار دیا جاتا ہے۔
بند کمرے کی مبینہ باتوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اچھالا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک ہی سماعت کو ملک میں لاقانونیت کا ثبوت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی کونسل کے اجلاسوں کے دوران یہ مہم تیز کر دی جاتی ہے۔
کیونکہ اس مہم کا مقصد عالمی برادری کی فوری ہمدردی حاصل کرنا ہوتا ہے۔خواتین سے جڑے مقدمات کو جذباتی رنگ دے کر بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق تصدیق شدہ عدالتی ریکارڈ ہی اصل حقائق سامنے لاتا ہے۔
دیکھیے: بلوچستان سے متعلق منفی بیانیہ مسترد، پاکستان نے حقائق سامنے رکھ دیے