سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچز کی کال کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ڈی چوک سمیت اہم مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے۔

September 16, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہے۔

September 16, 2026

سابق بھارتی وائس ایڈمرل نے پاکستان کی ہنگور کلاس آبدوزوں کو بھارتی بحریہ کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔

September 16, 2026

برکس اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے لیے صرف سبزی خور کھانے پیش کیے جانے پر بھارت میں سیاسی بحث چھڑ گئی۔

September 16, 2026

قندھار، ہلمند، غور اور پنجشیر میں طالبان اہلکاروں اور سکیورٹی گاڑیوں کے خلاف مختلف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

September 16, 2026

جنگِ ستمبر کے 16ویں روز بھارتی فوج کا جانی نقصان 6889 تک پہنچ گیا، جبکہ مختلف محاذوں پر بھارتی ٹینک، فوجی گاڑیاں اور طیارے تباہ کیے گئے۔

September 16, 2026

جنگِ ستمبر 1965: جب 16ویں روز بھارتی فوج کا جانی نقصان 6889 تک جاپہنچا

جنگِ ستمبر کے 16ویں روز بھارتی فوج کا جانی نقصان 6889 تک پہنچ گیا، جبکہ مختلف محاذوں پر بھارتی ٹینک، فوجی گاڑیاں اور طیارے تباہ کیے گئے۔
جنگِ ستمبر کا 16واں دن، بھارتی نقصان 6889 تک پہنچ گیا

جنگِ ستمبر 1965 کے 16ویں روز سیالکوٹ، جموں اور دیگر محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی، بھارتی فوج کا جانی نقصان 6889 تک پہنچ گیا۔

September 16, 2026

جنگِ ستمبر 1965 کے 16ویں روز بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری رہی۔ سیالکوٹ اور جموں کے محاذ پر پاکستانی مسلح افواج نے بھارتی حملوں کا مقابلہ کیا۔

اس روز بھارتی فوج کے جانی نقصان کی تعداد 6889 تک پہنچ گئی۔ ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور بھاری فوجی سازوسامان کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔

سیالکوٹ اور جموں کے محاذ پر پاک فوج اور پاک فضائیہ نے بھارتی پیش قدمی کا مقابلہ کیا۔ پاک فضائیہ کی کارروائیوں میں 36 بھارتی ٹینک تباہ کردیے گئے۔

دوسری جانب پاک فوج نے واہگہ، اٹاری اور کھیم کرن کے محاذوں پر بھارتی حملوں کو ناکام بنایا۔ پاکستانی فوج بھارتی حدود میں 12 میل تک آگے بڑھی اور 6 میل علاقے پر قبضہ کرلیا۔

راجوڑی سیکٹر میں بھی پاک فوج نے پیش قدمی کرتے ہوئے علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔

پاک فضائیہ کی کارروائیاں

سیالکوٹ، جموں، واہگہ، اٹاری، کھیم کرن اور گدرو سیکٹرز میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

ان کارروائیوں میں 20 بھارتی ٹینک، متعدد فوجی گاڑیاں اور گن پوزیشنز تباہ کردی گئیں۔

پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں نے دریائے بیاس کے قریب بھارتی فضائیہ کے دو ہنٹر طیارے بھی مار گرائے۔

پاکستان نیوی نے بھی بحیرہ عرب میں بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت کو روک دیا اور سمندری محاذ پر اپنی برتری برقرار رکھی۔

جنگِ ستمبر صرف محاذوں تک محدود نہیں رہی۔ پاکستانی قوم نے بھی اپنی مسلح افواج کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔

16 ستمبر 1965 کو ملک کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے دفاعی فنڈ میں عطیات جمع کرائے۔ عوامی تعاون کا یہ سلسلہ جنگ کے دوران مسلح افواج کی حمایت کی نمایاں مثال بن گیا۔

جنگِ ستمبر کا 16واں دن بھی پاکستانی مسلح افواج کی مختلف محاذوں پر کارروائیوں اور عوامی حمایت کے واقعات کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

متعلقہ مضامین

سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچز کی کال کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی سخت، ڈی چوک سمیت اہم مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے۔

September 16, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان حرمین شریفین کی سلامتی کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہے۔

September 16, 2026

سابق بھارتی وائس ایڈمرل نے پاکستان کی ہنگور کلاس آبدوزوں کو بھارتی بحریہ کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔

September 16, 2026

برکس اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے لیے صرف سبزی خور کھانے پیش کیے جانے پر بھارت میں سیاسی بحث چھڑ گئی۔

September 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *