اسلام آباد: سیاسی جماعتوں کے لانگ مارچز کی کال کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ ڈی چوک سمیت اہم مقامات پر کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر 20 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں اور ریڈ زون کے اطراف کنٹینرز پہنچائے گئے ہیں۔
ڈی چوک، روات، 26 نمبر چونگی، فیض آباد، ترنول اور مارگلہ ایونیو سمیت دیگر اہم مقامات پر بھی کنٹینرز رکھنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایک ہزار سے زائد کنٹینرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
ضرورت پڑنے پر ان کنٹینرز کے ذریعے بعض راستوں پر آمدورفت محدود یا بند کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے حساس مقامات کی سکیورٹی مزید بڑھانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔
پولیس اور انتظامیہ ہائی الرٹ
رپورٹس کے مطابق ریڈ زون اور اہم سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے لیے اضافی نفری تعینات کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پولیس کے انسداد ہنگامہ آرائی یونٹ کو بھی الرٹ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد پولیس شہر کی صورتحال، ٹریفک اور حساس مقامات کی نگرانی کے لیے کیمروں اور کنٹرول رومز سے مدد لے گی۔ اس کے علاوہ احتجاج کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے احتجاج
جماعت اسلامی نے 20 ستمبر کو پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے۔
پی ٹی آئی نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور مارچ کا اعلان کیا ہے۔ دونوں سیاسی سرگرمیوں کے باعث انتظامیہ نے ممکنہ اجتماعات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اور ٹریفک پلان پر کام تیز کر دیا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے احتجاج کا راستہ روکنے کے بجائے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی کوشش بھی شروع کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکومت نے جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور کسان اتحاد سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لانگ مارچز سے قبل معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔