کابل: افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان اہلکاروں اور سکیورٹی گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ، افغانستان فریڈم فرنٹ اور افغان گرین ٹرینڈ نے مختلف حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ان تنظیموں کے بیانات کے مطابق کارروائیاں قندھار، ہلمند، غور اور پنجشیر میں کی گئیں۔ ان واقعات سے افغانستان میں مسلح مزاحمت کی سرگرمیوں کے مختلف علاقوں تک پھیلاؤ کی اطلاعات سامنے آتی ہیں۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے مطابق 15 ستمبر کو ہلمند کے ضلع نوزاد کے امام رباط چوکی کے علاقے میں طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی۔
فرنٹ کے مطابق کارروائی میں طالبان کے 2 اہلکار ہلاک ہوئے۔ تنظیم نے 2 کلاشنکوف رائفلیں قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
فرنٹ نے اپنے بیان میں طالبان حکومت کے خلاف مزید کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔
قندھار میں طالبان نشانہ
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے 16 ستمبر کو قندھار شہر کے باغ پل بازار کے علاقے میں طالبان کے ایک سکیورٹی اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
تنظیم کے مطابق کارروائی دوپہر کے وقت کی گئی۔ فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے علاقے میں موجود طالبان سکیورٹی اہلکار کو ہدف بنایا۔
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے اپنے بیان میں قندھار سے بلخ اور ہرات سے بدخشان تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اسی دوران فرنٹ سے وابستہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 313 زرغون بریگیڈ نے ہلمند میں اپنی اطلاعاتی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ بیان کے مطابق آئندہ عملی کارروائیاں بھی ہلمند تک پہنچ سکتی ہیں۔
پنجشیر میں حملہ
افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق 15 ستمبر کو پنجشیر کے حصارک علاقے میں طالبان کی 2 رینجرز گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تنظیم کے مطابق کارروائی حصارک وادی کے نواحی گاؤں گل زنگر میں کی گئی۔ افغان گرین ٹرینڈ نے دونوں گاڑیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق حملے کے بعد طالبان نے علاقے کا مواصلاتی نظام بند کر دیا اور مقامی آبادی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔
افغان گرین ٹرینڈ کا کہنا ہے کہ اس کے جنگجو کارروائی کے بعد کپیسہ صوبے واپس پہنچ گئے۔ تنظیم نے ہلمند میں اطلاعاتی سرگرمیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔
افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق 12 ستمبر کو سہ پہر تقریباً ساڑھے 3 بجے غور کے دارالحکومت فیروز کوہ میں طالبان کے سکیورٹی پولیس کمانڈروں اور مذہبی پولیس اہلکاروں کے اجلاس کو نشانہ بنایا گیا۔
فرنٹ کے مطابق حملہ صوبائی پولیس ہیڈکوارٹر میں ہونے والے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ حملے میں طالبان کے 3 ارکان ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہوئے۔
مختلف صوبوں میں کارروائیوں کا سلسلہ
قندھار، ہلمند، غور اور پنجشیر میں سامنے آنے والی کارروائیوں سے افغانستان میں مسلح مزاحمت کی سرگرمیوں کے مختلف علاقوں تک پھیلاؤ کی اطلاعات ملتی ہیں۔
ان کارروائیوں میں طالبان اہلکاروں، سکیورٹی گاڑیوں اور سکیورٹی ڈھانچے سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کے بیانات شامل ہیں۔ تاہم، ان حملوں اور ہلاکتوں کی آزادانہ تصدیق ہر واقعے میں دستیاب نہیں۔
دوسری جانب طالبان حکومت کی طرف سے ان مخصوص واقعات پر کوئی تفصیلی مؤقف فراہم نہیں کیا گیا۔
قندھار سے پنجشیر اور ہلمند سے غور تک سامنے آنے والی یہ کارروائیاں افغانستان کی سکیورٹی صورت حال میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ مختلف مزاحمتی گروہوں کے بیانات سے ان کی سرگرمیوں کے مزید علاقوں تک پھیلنے کا اشارہ ملتا ہے۔