خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب نماز جمعہ کے دوران دو دھماکوں کے نتیجے میں 21 افراد شہید اور 130 زخمی ہوگئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
شہید ہونے والوں میں 15 پولیس اہلکار شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 73 پولیس اہلکار ہیں۔ زخمی پولیس اہلکاروں میں سے 20 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
دو دھماکے
پولیس کے مطابق کوہاٹ پشاور روڈ پر پرانی پولیس لائنز کے گیٹ کے قریب بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے کے بعد زوردار دھماکا ہوا۔ اس کے بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ بلڈنگ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق دونوں دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، جس میں 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
حکام کے مطابق دھماکوں میں مجموعی طور پر 130 افراد زخمی ہوئے، جن میں 73 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے 20 پولیس اہلکاروں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
دھماکے کے بعد زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں فوری طبی امداد کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
ریسکیو آپریشن جاری
ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ حکام کے مطابق 14 ایمبولینسز، ریسکیو اور ریکوری گاڑیوں سمیت 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں شریک رہے۔
ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نور الامین نے کی۔ دوسری جانب کوہاٹ ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کرکے علاقے میں سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی۔
وزیراعظم کی مذمت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہادتوں اور زخمیوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔
انہوں نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔