کوہاٹ: پولیس لائنز کے قریب بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش دھماکے اور فائرنگ کے بعد پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جوابی کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق دہشت گردوں کے حملے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شہید ہوئے ہیں۔ ہلاک دہشت گردوں میں خودکش بمبار اور سنائپر بھی شامل ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 7 مسلح دہشت گرد پولیس لائنز میں داخل ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے فوری کارروائی شروع کی اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور مقابلہ کیا۔
بارود سے بھری گاڑی سے دھماکا
دھماکے کے بعد فائرنگ بھی شروع ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد سنائپر بھی مارا گیا، جبکہ دیگر دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن جاری رہا۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق دہشت گردی کی کارروائی میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شہید ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے بعد پولیس لائنز اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کی ٹیمیں علاقے کو محفوظ بنانے اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے کارروائی میں مصروف ہیں۔
کلیئرنس آپریشن جاری
پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس لائنز کے حساس علاقے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ دھماکے اور فائرنگ کے فوراً بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
اس کے بعد دہشت گردوں کی موجودگی کے ممکنہ مقامات کی تلاشی شروع کی گئی۔ حکام کے مطابق علاقے کی مکمل کلیئرنس تک کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
آئی جی خیبرپختونخوا کا مؤقف
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ پولیس دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
آئی جی کے مطابق سکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے اور علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کیا جائے گا۔