افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے العربیہ انگلش کو ایک انٹرویو دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خودمختاری کی خلاف ورزی پر سخت جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ گروہوں کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا۔
پاکستان نے اس مؤقف کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بیانات کو حقیقت کے برعکس قرار دیا ہے۔ متعلقہ حلقوں کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ کسی بھی عسکری مہم جوئی کا ہر سطح پر موثر اور مناسب جواب دیا جائے گا۔
دہشت گردوں کی پناہ گاہیں
افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال پر مسلسل عالمی تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ اٹلانٹک کونسل کی رپورٹ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دستاویزات اس کی تصدیق کرتی ہیں۔ ان رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ انتہا پسند تنظیموں کو وہاں سازگار ماحول حاصل ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت دوحہ معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی ضمانت دی گئی تھی۔ عالمی برادری کے خدشات کو نظر انداز کر کے الزامات سے بچا نہیں جا سکتا۔
افغان صورتحال پر تحفظات
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ افغان انتظامیہ عوامی تائید کے بجائے دباؤ کے ذریعے قائم ہے۔ شہریوں کو سخت پابندیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نظام کی من مانی تشریح نے عوامی اضطراب میں اضافہ کیا ہے۔
حکمرانی میں شفافیت کا فقدان اور معاشی مسائل افغان عوام کی تکالیف بڑھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کابل کو دوسروں پر انگلیاں اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ افغان عبوری حکومت اپنی حدود میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔