کوہاٹ میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد ذمہ داری کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار نے اس کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب القاعدہ برصغیر اور حافظ گل بہادر گروپ کے مبینہ اتحاد کی جانب سے دعوے کی اطلاعات ملی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مبینہ دعوے کی گہرائی سے جانچ پڑتال ناگزیر ہے۔ ماضی میں ان عناصر کے باہمی اشتراک کے شواہد ضرور ملتے رہے ہیں۔ تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے شواہد کا انتظار کرنا ضروری ہے۔
سرحد پار دراندازی
ابتدائی معلومات میں افغان شہری کی مبینہ شمولیت نے سرحدی انتظام کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اپناتا رہا ہے کہ دہشت گرد عناصر سرحد پار سے دراندازی کرتے ہیں۔ یہی نکتہ غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کی پالیسی کا بنیادی سبب بھی بنا ہے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی اگست 2026 کی رپورٹ میں بھی اس صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں کے درمیان وسائل اور لاجسٹک معاونت کا باقاعدہ تبادلہ پایا جاتا ہے۔ یہ گٹھ جوڑ پورے خطے کی سکیورٹی کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔
سکیورٹی چیلنجز
کوہاٹ حملہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ اس تناظر میں افغانستان سے ابھرنے والے خطرات پر بین الاقوامی سطح پر توجہ مرکوز ہو رہی ہے۔ نائن الیون کی پچیسویں برسی پر القاعدہ کے نیٹ ورکس کی موجودگی عالمی کوششوں پر بھی سوال کھڑے کرتی ہے۔
دفاعی مبصرین کے مطابق پاکستان کو اپنے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔ کسی بھی جوابی کارروائی کو زمینی حقائق اور تناسب کے اصول کے تحت دیکھا جانا چاہیے۔ خطے کے پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری دہشت گرد پناہ گاہوں کے خاتمے پر سنجیدہ کردار ادا کرے۔