افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان مکہ دفاعی اتحاد سے نکلنے کے لیے افغانستان میں کارروائیاں کر رہا ہے۔
ترجمان نے افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی موجودگی سے بھی انکار کیا۔ سفارتی حلقوں نے ان دعوؤں کو زمینی حقائق کے برعکس اور توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
نمایاں پیش رفت
حقائق کے مطابق پاکستان اس اتحاد کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو اجتماعی دفاع کے تاریخی معاہدے پر دستخط کیے۔
تینوں ممالک نے 31 اگست کو سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کی منظوری دی۔ اس سیکریٹریٹ کی پہلی تین سالہ قیادت پاکستان کے پاس ہے۔
پاکستان نے 23 ستمبر کو ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل نامزد کیا۔ اس کے علاوہ 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر تینوں ممالک کے وفود نے ملاقات بھی کی۔
افغان سرزمین
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کے تینوں ممالک طالبان انتظامیہ کو قانونی حکومت تسلیم نہیں کرتے۔ اس کے باوجود طالبان کا ان ریاستوں کے دفاعی امور پر بات کرنا بلاجواز ہے۔
افغانستان میں فیصلہ سازی کا نظام اب بھی غیر واضح ہے۔ ترک انٹیلی جنس چیف کے حالیہ دورے کے دوران افغان قیادت کے روئیے نے اس ابہام کو مزید واضح کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت داخلی مسائل کا شکار ہے۔ وہ معاشی بحران، عالمی تنہائی اور عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزامات لگا رہی ہے۔