شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کے غلط فیصلوں نے پی ٹی آئی کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، سہیل آفریدی مستعفی ہو جائیں۔

September 28, 2026

وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں غیرقانونی اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام تقاضے پورے ہو چکے ہیں اور صوبے میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

September 28, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے امریکی افغان جنگ کمیشن کے وفد نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

September 28, 2026

ڈیرہ بگٹی کشمور روڈ پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

September 28, 2026

افغانستان کے مختلف صوبوں میں مسلح مزاحمت تیز ہو گئی ہے، جہاں افغانستان فریڈم فرنٹ کے پے در پے حملوں میں درجنوں طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

September 28, 2026

پاکستان کے صحت کے نظام میں مرکزی انتظامی ڈھانچے اور فنڈز کی غیر متوازن تقسیم نے دیہی و پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات کا بحران پیدا کر دیا ہے۔

September 28, 2026

طالبان کے خلاف مزاحمت میں شدت، 3 صوبوں میں خونریز جھڑپیں، 40 اہلکار ہلاک

افغانستان کے مختلف صوبوں میں مسلح مزاحمت تیز ہو گئی ہے، جہاں افغانستان فریڈم فرنٹ کے پے در پے حملوں میں درجنوں طالبان اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
افغانستان میں طالبان پر حملے، متعدد ہلاک

افغانستان فریڈم فرنٹ نے بدخشان، نورستان اور کنڑ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ان حملوں نے طالبان حکومت کے استحکام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

September 28, 2026

افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے بدخشان کے صوبائی دارالحکومت فیض آباد میں محکمہ معدنیات کے قریب طالبان اہلکاروں کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 3 طالبان اہلکار موقع پر ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔

اس سے قبل نورستان کے علاقے کامدیش اور کنڑ کے ضلع ناری میں فریقین کے مابین شدید لڑائی ہوئی۔ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان جھڑپوں میں 37 طالبان اہلکار ہلاک اور 24 زخمی ہوئے۔ تنظیم نے متعدد چوکیوں اور دیہات کا کنٹرول سنبھالنے کا بھی دعویٰ کیا۔

مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع

محض دو روز کے اندر تین مختلف صوبوں میں ہونے والے مسلسل حملے مزاحمت کے وسیع ہوتے دائرے کو ظاہر کرتے ہیں۔ بدخشان، نورستان اور کنڑ کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت مخالف کارروائیاں منظم ہو رہی ہیں۔

طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں اور قدرتی وسائل کے مبینہ استحصال نے عوام میں بے اطمینانی کو جنم دیا ہے۔ متعدد علاقوں میں کانوں کے کنٹرول اور غیر مقامی اہلکاروں کی تعیناتی پر مقامی آبادی شدید نالاں ہے۔

طالبان کو درپیش چیلنجز

مسلسل عسکری حملوں اور بڑھتی ہوئی مقامی مزاحمت نے کابل انتظامیہ کے لیے سیکیورٹی خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ملک گیر سطح پر امن قائم رکھنا اور اپنا اقتدار مضبوط بنانا طالبان کے لیے بدستور ایک کٹھن امتحان بنا ہوا ہے۔

متعلقہ مضامین

شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کے غلط فیصلوں نے پی ٹی آئی کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے، سہیل آفریدی مستعفی ہو جائیں۔

September 28, 2026

وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں غیرقانونی اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام تقاضے پورے ہو چکے ہیں اور صوبے میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

September 28, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے امریکی افغان جنگ کمیشن کے وفد نے جی ایچ کیو میں ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی اور افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

September 28, 2026

ڈیرہ بگٹی کشمور روڈ پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے فتنۃ الہندوستان کے 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

September 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *