افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے بدخشان کے صوبائی دارالحکومت فیض آباد میں محکمہ معدنیات کے قریب طالبان اہلکاروں کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 3 طالبان اہلکار موقع پر ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل نورستان کے علاقے کامدیش اور کنڑ کے ضلع ناری میں فریقین کے مابین شدید لڑائی ہوئی۔ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان جھڑپوں میں 37 طالبان اہلکار ہلاک اور 24 زخمی ہوئے۔ تنظیم نے متعدد چوکیوں اور دیہات کا کنٹرول سنبھالنے کا بھی دعویٰ کیا۔
مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع
محض دو روز کے اندر تین مختلف صوبوں میں ہونے والے مسلسل حملے مزاحمت کے وسیع ہوتے دائرے کو ظاہر کرتے ہیں۔ بدخشان، نورستان اور کنڑ کے واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت مخالف کارروائیاں منظم ہو رہی ہیں۔
طالبان حکومت کی سخت گیر پالیسیوں اور قدرتی وسائل کے مبینہ استحصال نے عوام میں بے اطمینانی کو جنم دیا ہے۔ متعدد علاقوں میں کانوں کے کنٹرول اور غیر مقامی اہلکاروں کی تعیناتی پر مقامی آبادی شدید نالاں ہے۔
طالبان کو درپیش چیلنجز
مسلسل عسکری حملوں اور بڑھتی ہوئی مقامی مزاحمت نے کابل انتظامیہ کے لیے سیکیورٹی خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ملک گیر سطح پر امن قائم رکھنا اور اپنا اقتدار مضبوط بنانا طالبان کے لیے بدستور ایک کٹھن امتحان بنا ہوا ہے۔