بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر تعطل میں ڈالنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے نے جنوبی ایشیا میں سرحد پار آبی انتظام کے دیرینہ نظام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ سفارتی اور قانونی ماہرین نے اس عمل کو بین الاقوامی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
یہ تاریخی معاہدہ ماضی میں 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں میں بھی مکمل فعال رہا۔ حتیٰ کہ 1999 کی کارگل جنگ کے دوران بھی اس پر عمل درآمد جاری رہا۔ دہائیوں پر محیط یہ تسلسل ظاہر کرتا ہے کہ معاہدہ ادارہ جاتی سطح پر کس قدر مضبوط بنیادوں پر قائم تھا۔
بھارت نے طے شدہ ضوابط سے انحراف کرتے ہوئے معاہدے کو یک طرفہ تعطل کی نذر کر دیا ہے۔ اس پیش رفت سے پانی کے بہاؤ کی پیش گوئی اور تکنیکی معلومات کے تبادلے کا عمل رک گیا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں قواعد پر مبنی آبی نظام کو بے یقینی کا شکار کر دیا ہے۔
عالمی قوانین سے انحراف
ماہرین کے مطابق نئی دہلی کا یہ اقدام معاہدوں کی پابندی کے بنیادی بین الاقوامی اصول سے انحراف ہے۔ بین الاقوامی قانون کی رو سے کوئی بھی فریق کثیر الجہتی نگرانی والے معاہدے کو تنہا معطل نہیں کر سکتا۔ بھارت کے اس طرزِ عمل نے تنازعات کے حل کے طے شدہ طریقہ کار کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔
معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں رکاوٹ ڈالنے سے دریائے سندھ کے طاس میں قانونی غیر یقینی بڑھ چکی ہے۔ اس صورتحال سے سرحد پار دریاؤں کے انتظام کے عالمی ضوابط پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس اقدام نے ثابت کیا ہے کہ بھارت پانی کو اسٹریٹجک دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔
رراعت، غذا اور توانائی پر اثرات
پانی کی روانی میں ممکنہ رکاوٹ پاکستان کی زراعت اور پن بجلی کے شعبوں کے لیے شدید نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی کروڑوں عوام کی غذائی ضروریات کا دارومدار دریائے سندھ کے آبپاشی نظام پر قائم ہے۔ پانی کی غیر یقینی صورتحال سے فصلوں کی پیداوار اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا واضح خدشہ موجود ہے۔
پاکستان نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنے قانونی، تکنیکی اور سفارتی ذرائع کو فعال رکھا ہے۔ پاکستان کا یہ طرزِ عمل بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور سفارتی وقار کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی اور عالمی فورمز کے مؤثر استعمال سے ہی قومی مفادات کا تحفظ ممکن ہے۔
دیکھیے: سندھ طاس معاہدہ: بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے خطے کی آبی سلامتی کو نئے خطرات لاحق