پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم ایک حساس معاملہ رہا ہے۔ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ گزشتہ 65 سال سے دونوں ممالک کے درمیان آبی تعلقات کی بنیاد ہے۔ یہ معاہدہ جنگوں اور شدید کشیدگی کے ادوار میں بھی کامیابی سے برقرار رہا۔
معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں بشمول سندھ، جہلم اور چناب کا پانی بنیادی طور پر پاکستان کے لیے مختص ہے۔ بھارت کو مخصوص شرائط کے تحت صرف پن بجلی اور محدود استعمال کا حق حاصل ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے ثالثی عدالت اور سندھ طاس کمیشن جیسے مستقل ادارے بھی قائم کیے گئے۔
حالیہ یکطرفہ بھارتی اقدام
بھارت نے 2025 میں سیکیورٹی وجوہات کا بہانہ بنا کر اس تاریخی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستان نے اس اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر بین الاقوامی قانونی معاہدے کو ختم یا معطل نہیں کر سکتا۔
سندھ طاس کا پانی پاکستان کے زرعی نظام، خوراک کی پیداوار اور پن بجلی کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ بھارتی اقدامات کے باعث خطے میں آبی وسائل کے بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ تنازعات کو قانونی راستوں سے حل نہ کیا گیا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
دیکھیے: افغان کرکٹ بورڈ چیئرمین کی مندر میں ویڈیو وائرل، طالبان کے بیانیے پر سوالات