تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کے بجائے صوابی یا اٹک تک محدود رکھنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔

September 29, 2026

خیبر پختونخوا میں بدانتظامی، بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور پولیس کی کمزور استعدادِ کار پر تفصیلی وائٹ پیپر جاری کر دیا گیا ہے۔

September 29, 2026

نورستان کے کامدیش میں مزاحمتی فورسز نے طالبان چوکیوں پر قبضہ کر لیا، ویڈیو سامنے آگئی۔

September 29, 2026

افغانستان کے صوبے نورستان کے علاقے کامدیش میں مقامی افراد نے جنگجوؤں کی گرفتاری سے متعلق طالبان کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

September 29, 2026

مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کو بڑی سیاسی شکست ہوئی ہے اور ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور کر لی گئی۔

September 29, 2026

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام کی طاقت سے ہوگا اور یہ اب پاکستان کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

September 29, 2026

نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کرے گی، سیاستدان نہیں: مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام کی طاقت سے ہوگا اور یہ اب پاکستان کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔
نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کرے گی: مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے ایچ ٹی این کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے سندھ تقسیم نہیں ہوگا اور اس کا حتمی فیصلہ عوام کریں گے۔

September 29, 2026

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کا فیصلہ سیاست دان نہیں بلکہ عوام کریں گے۔

ایچ ٹی این کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملکی انتظامی ڈھانچے، سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور سندھ کے مستقبل سے متعلق مختلف سوالات کے جواب دیے۔

ایچ ٹی این نمائندے نے استفسار کیا کہ ملک میں جاری حالیہ بحث کے تناظر میں کیا واقعی نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بننے جا رہے ہیں؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے یونٹس کا قیام اب کسی کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔ ریاست کے پاس نظام کو درست سمت میں چلانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔ ملکی بقا اور بہتر انتظام کے لیے یہ ایک ناگزیر قدم بن چکا ہے۔

اس موقع پر ایچ ٹی این کے نمائندے نے سوال کیا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہیں تو سیاسی جماعتیں ان کے قیام کی راہ میں رکاوٹ کیوں بنتی ہیں؟

جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ نئے انتظامی یونٹس کے خلاف ہیں، دراصل ان کا حرام کا کمانا اور ناجائز مفادات بند ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سندھ میں گزشتہ سترہ برسوں کے دوران بائیس ہزار ارب روپے خرچ ہوئے، مگر صورتحال نہیں بدلی۔ نظام سے وابستہ چند سو افراد کے علاوہ عوام نئے صوبوں پر راضی ہیں۔

نمائندے نے دوسرا سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی جماعتیں رضامند نہ ہوں تو آئینی تقاضے کے تحت دو تہائی اکثریت کے بغیر نئے یونٹس کس طرح وجود میں آ سکتے ہیں؟

مصطفیٰ کمال نے اس پر کہا کہ سیاسی جماعتوں کے بجائے حتمی فیصلہ عوام کروائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کی رائے اور خواہش ہی سب سے بالاتر ہوتی ہے۔ جب عوام اپنا کردار ادا کرنے میدان میں نکلیں گے تو سیاسی رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

کیا سندھ تقسیم ہو جائے گا؟

نمائندے کے اس سوال پر کہ سندھ کی بعض جماعتیں اسے صوبے کی تقسیم قرار دیتی ہیں، کیا واقعی سندھ تقسیم ہوگا؟

مصطفیٰ کمال نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ماضی میں بھی کراچی وفاق کے زیرِ انتظام رہا اور سندھ بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ بھی رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اقدام محض انتظامی تنظیمِ نو ہے، جس سے سندھ کا ایک انچ بھی کہیں باہر نہیں جائے گا۔ جیسے کراچی کو ایک سے سات اضلاع میں تقسیم کیا گیا تو شہر تقسیم نہیں ہوا، اسی طرح انتظامی بہتری سے صوبہ تقسیم نہیں ہوتا۔

دیکھیے: مسائل کا حل صرف نئے انتظامی یونٹس میں ہے: علی خورشیدی

متعلقہ مضامین

تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کے بجائے صوابی یا اٹک تک محدود رکھنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔

September 29, 2026

خیبر پختونخوا میں بدانتظامی، بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور پولیس کی کمزور استعدادِ کار پر تفصیلی وائٹ پیپر جاری کر دیا گیا ہے۔

September 29, 2026

نورستان کے کامدیش میں مزاحمتی فورسز نے طالبان چوکیوں پر قبضہ کر لیا، ویڈیو سامنے آگئی۔

September 29, 2026

افغانستان کے صوبے نورستان کے علاقے کامدیش میں مقامی افراد نے جنگجوؤں کی گرفتاری سے متعلق طالبان کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

September 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *