وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کا فیصلہ سیاست دان نہیں بلکہ عوام کریں گے۔
ایچ ٹی این کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ملکی انتظامی ڈھانچے، سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور سندھ کے مستقبل سے متعلق مختلف سوالات کے جواب دیے۔
ایچ ٹی این نمائندے نے استفسار کیا کہ ملک میں جاری حالیہ بحث کے تناظر میں کیا واقعی نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بننے جا رہے ہیں؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ نئے یونٹس کا قیام اب کسی کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست کی اشد ضرورت بن چکا ہے۔ ریاست کے پاس نظام کو درست سمت میں چلانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا۔ ملکی بقا اور بہتر انتظام کے لیے یہ ایک ناگزیر قدم بن چکا ہے۔
اس موقع پر ایچ ٹی این کے نمائندے نے سوال کیا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ہیں تو سیاسی جماعتیں ان کے قیام کی راہ میں رکاوٹ کیوں بنتی ہیں؟
جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ نئے انتظامی یونٹس کے خلاف ہیں، دراصل ان کا حرام کا کمانا اور ناجائز مفادات بند ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سندھ میں گزشتہ سترہ برسوں کے دوران بائیس ہزار ارب روپے خرچ ہوئے، مگر صورتحال نہیں بدلی۔ نظام سے وابستہ چند سو افراد کے علاوہ عوام نئے صوبوں پر راضی ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے ایچ ٹی این (HTN) کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام، صوبائی خود مختاری اور حکمران طبقے کی کرپشن پر کھل کر بات کی ہے۔
— HTN Urdu (@htnurdu) September 29, 2026
مصطفیٰ کمال نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹیاں نئے انتظامی… pic.twitter.com/84sLpeq1AK
نمائندے نے دوسرا سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی جماعتیں رضامند نہ ہوں تو آئینی تقاضے کے تحت دو تہائی اکثریت کے بغیر نئے یونٹس کس طرح وجود میں آ سکتے ہیں؟
مصطفیٰ کمال نے اس پر کہا کہ سیاسی جماعتوں کے بجائے حتمی فیصلہ عوام کروائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کی رائے اور خواہش ہی سب سے بالاتر ہوتی ہے۔ جب عوام اپنا کردار ادا کرنے میدان میں نکلیں گے تو سیاسی رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔
کیا سندھ تقسیم ہو جائے گا؟
نمائندے کے اس سوال پر کہ سندھ کی بعض جماعتیں اسے صوبے کی تقسیم قرار دیتی ہیں، کیا واقعی سندھ تقسیم ہوگا؟
مصطفیٰ کمال نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ماضی میں بھی کراچی وفاق کے زیرِ انتظام رہا اور سندھ بمبئی پریذیڈنسی کا حصہ بھی رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اقدام محض انتظامی تنظیمِ نو ہے، جس سے سندھ کا ایک انچ بھی کہیں باہر نہیں جائے گا۔ جیسے کراچی کو ایک سے سات اضلاع میں تقسیم کیا گیا تو شہر تقسیم نہیں ہوا، اسی طرح انتظامی بہتری سے صوبہ تقسیم نہیں ہوتا۔
دیکھیے: مسائل کا حل صرف نئے انتظامی یونٹس میں ہے: علی خورشیدی