پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق یکم اکتوبر کی صبح افغانستان کے صوبے ہلمند میں فضائی کارروائی کی گئی ہے۔ اس کارروائی میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مبینہ میڈیا آپریشنز سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ کارروائی صبح چار بج کر پینتالیس منٹ پر ضلع گرمسیر میں انجام دی گئی۔ فضائی حملے کے نتیجے میں میڈیا آپریشنز سے وابستہ چار اہم کمانڈرز سمیت نو عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔
ہلاک ہونے والوں میں شیروان بلوچ، حذیفہ بلوچ، فاروق بلوچ اور حضرت بلوچ شامل ہیں۔ سیکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام افراد کالعدم تنظیم کے میڈیا آپریشنز کے ذمہ دار تھے۔
ذرائع کے مطابق نشانہ بننے والا کمپاؤنڈ ملا نادر نامی شخص کی ملکیت تھا، جو نیمروز میں طالبان بارڈر فورس کا کمانڈر اور ہلمند میں تنظیم کا مبینہ سہولت کار ہے۔ اس مرکز سے بلوچستان میں کارروائیوں کے لیے تشہیری مواد اور پروپیگنڈا نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ کارروائی دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں اور سہولت کاری کے نیٹ ورک کے خلاف کی گئی ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین کے کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کے دعوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ملک میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔ حکام نے اعادہ کیا کہ سرحد پار سے متحرک دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دیکھیے: نورستان کامدیش میں طالبان کی چوکیاں مزاحمتی فورسز کے قبضے میں