پاکستانی سکیورٹی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مل کر لڑنے والے 260 افغان شدت پسندوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق شناخت ہونے والے افراد کے نام، آبائی پتے اور خاندانی کوائف ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیں۔
ہلاک افغان شہریوں کا ریکارڈ
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ افراد مختلف سکیورٹی آپریشنز کے دوران ہلاک ہوئے۔ ان میں سے بعض شناخت شدہ افراد کی میتیں متعلقہ افغان حکام کے حوالے بھی کی جا چکی ہیں۔
حکام کے مطابق ہلاک افغان شدت پسندوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ متعدد لاشوں کی تاحال باقاعدہ شناخت ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
سرحد پار شواہد اور الزامات
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ جنگجو افغانستان سے پاکستان داخل ہو کر ٹی ٹی پی کے ہمراہ تخریبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ دستیاب ریکارڈ افغان شہریوں کی کالعدم تنظیموں میں شمولیت اور سرحد پار عسکریت پسندی کا واضح ثبوت ہے۔
دوسری جانب، افغانستان کی طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ کابل انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔
دیکھیے: نورستان کامدیش میں طالبان کی چوکیاں مزاحمتی فورسز کے قبضے میں