مشرقِ وسطیٰ اس وقت معیشت کو متنوع بنانے کے تاریخی عمل سے گزر رہا ہے۔ سعودی وژن 2030، متحدہ عرب امارات کا سینچری 2071 اور قطر نیشنل وژن 2030 اس تبدیلی کی واضح مثالیں ہیں۔ ان ممالک کو توانائی پر انحصار کم کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شراکت داروں کی ضرورت ہے۔
پاکستان اپنے محلِ وقوع، افرادی قوت اور قدرتی وسائل کے باعث اس نئے معاشی نظام میں کلیدی مرکز بن سکتا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کی وسیع سرمایہ کاری پاکستان میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔ یہ اشتراک پاکستان کو محض سرمایہ وصول کنندہ کے بجائے ایک فعال شراکت دار بناتا ہے۔
پاکستان مشرقِ وسطیٰ کو پانچ باہم مربوط شعبوں میں شراکت داری پیش کرتا ہے۔ ان میں افرادی قوت، غذائی تحفظ، ڈیجیٹل معیشت، قدرتی وسائل اور علاقائی روابط شامل ہیں۔ ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور خلیج سے قربت اس تعلق کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
اس معاشی ہم آہنگی کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) مؤثر بنا رہی ہے۔ یہ ادارہ اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے لیے ون ونڈو کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس شفاف نظام سے خلیجی سرمایہ کاروں کو سرکاری سطح پر فوری کاروباری مواقع میسر آ رہے ہیں۔
افرادی قوت اور ترسیلاتِ زر
خلیجی ممالک میں پچپن لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ ان میں تقریباً چھبیس لاکھ سعودی عرب اور بائیس لاکھ متحدہ عرب امارات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ افرادی قوت خلیجی معیشتوں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔
مالی سال 2025-26 میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ریکارڈ اکتالیس اعشاریہ چھ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ اعداد و شمار دونوں خطوں کے گہرے مالیاتی روابط کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان اب روایتی لیبر کے بجائے ہنرمند افرادی قوت کی فراہمی پر توجہ دے رہا ہے۔
قومی کمیشن برائے فنی و پیشہ ورانہ تربیت (نیوٹیک) اور وزارتِ اوورسیز پاکستانیز اس سمت میں سرگرم ہیں۔ وہ کارکنوں کی تربیت کو خلیجی منڈی کی جدید ضروریات سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ اس اقدام سے انجینئرنگ، صحت، آئی ٹی اور مہمان نوازی کے شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کو روزگار ملے گا۔
باہمی تعاون کے مواقع
محدود زرعی زمین اور پانی کی قلت کے باعث خلیجی ریاستیں خوراک کی درآمدات پر انحصار کرتی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے پاس زراعت اور لائیو اسٹاک کے وسیع قدرتی وسائل موجود ہیں۔
پاکستان میں اکیانوے لاکھ ہیکٹر اراضی کاشت کے لیے دستیاب ہے جبکہ دو کروڑ چوبیس لاکھ ہیکٹر رقبہ چراگاہوں پر مشتمل ہے۔ یہ زرعی بنیاد خلیجی ممالک کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
کارپوریٹ فارمنگ، فوڈ پروسیسنگ اور کولڈ چین لاجسٹکس میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اس انفراسٹرکچر کی بدولت پاکستان کی زرعی پیداوار بلا تعطل اور تازہ حالت میں خلیجی منڈیوں تک پہنچ سکتی ہے۔
معدنی وسائل
پاکستان کا ٹیکنالوجی سیکٹر تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ ملک میں سافٹ ویئر انجینئرز، آئی ٹی ماہرین اور اسٹارٹ اپس کی بڑی تعداد موجود ہے۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات ریکارڈ چار اعشاریہ چھ ارب ڈالر رہیں۔
خلیجی خطے میں مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور سائبر سکیورٹی کے حل کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کی باصلاحیت افرادی قوت اس ڈیجیٹل منڈی کی ضروریات باآسانی پوری کر سکتی ہے۔
اسٹریٹجک معدنیات اس باہمی تعلق کو ایک غیر معمولی جہت دیتی ہیں۔ پاکستان کے معدنی وسائل کا مجموعی تخمینہ چھ اعشاریہ ایک کھرب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ملک میں کوئلے کے دوسرے اور تانبے کے ساتویں بڑے عالمی ذخائر موجود ہیں۔
ریکوڈک منصوبے میں سعودی ادارے منارا منرلز کی ممکنہ سرمایہ کاری اس سمت میں اہم پیش رفت ہے۔ خلیجی سرمایہ پاکستان میں شفاف توانائی، کان کنی اور صنعت کاری کو نئی رفتار دینے کا باعث بنے گا۔
علاقائی رابطہ کاری
رابطہ کاری اس اسٹریٹجک شراکت داری کا سب سے اہم ستون ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی خلیجی معیشتوں کو جنوبی ایشیا کی بڑی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔ زمینی راستے وسطی ایشیا اور مغربی چین تک محفوظ تجارتی رسائی فراہم کرتے ہیں۔
کراچی بندرگاہ پر ابوظہبی پورٹس کی طویل المدتی سرمایہ کاری اس اعتماد کا بین ثبوت ہے۔ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں مستقبل میں خلیجی تجارت کے لیے اہم تجارتی دروازے ثابت ہوں گی۔
پاکستان لاجسٹکس، بحری نقل و حمل اور تجارتی راہداریوں کو جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ یہ مربوط نظام جزیرہ نما عرب سے لے کر وسطی ایشیا تک تیز رفتار ترسیل ممکن بنائے گا۔
پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے تعلقات اب رسمی محنت سے نکل کر جامع شراکت داری میں بدل چکے ہیں۔ پاکستان وسائل، صلاحیت اور جغرافیائی اہمیت کے ساتھ ایشیا اور خلیج کے درمیان ایک مضبوط معاشی پل بن چکا ہے۔
دیکھیے: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کل پاکستان پہنچیں گے، 8 اکتوبر تک قیام