خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کھلا چیلنج دیا ہے کہ پی ٹی آئی والے اٹک سے ایک قدم آگے بڑھ کر دکھائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے انتشار پسند قافلے کو پنجاب کے علاقے اٹک سے آگے بڑھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ عملی طور پر ان کے پاس اسلام آباد کی طرف بڑھنے کی نہ تو عوامی طاقت ہے اور نہ ہی صلاحیت۔
گورنر خیبر پختونخوا نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف بیس لاکھ لوگ لانے کے کھوکھلے دعوے کرتی رہی ہے، لیکن سڑکوں پر عوامی حمایت کا فقدان ان کی حقیقی پوزیشن بے نقاب کر رہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب صوبہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے شدید عذاب سے گزر رہا ہے، اس نازک وقت میں صوبائی حکومت امن قائم کرنے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی اور بدامنی پھیلانے میں مصروف ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت کی غیر سنجیدگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سیکیورٹی خدشات پر سوال اٹھایا کہ اگر اس پرتشدد اور بے ہنگم مجمع میں شرپسند یا ملک دشمن عناصر گھس جائیں تو پی ٹی آئی کے پاس اسکریننگ اور سیکیورٹی کا کیا نظام ہے؟
گورنر کے پی نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے واقعات پر پراسرار خاموشی سادھے بیٹھی ہے اور وفاق سے انسداد دہشت گردی پر تعاون کے بجائے فوج کے انخلا جیسے غیر ذمہ دارانہ مطالبات دہراتی ہے۔
انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی پالیسیوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں کو صوبے میں دوبارہ بسنے کا موقع ملا، جس کی بنیاد پر انہیں ’طالبان خان‘ کا نام دیا گیا تھا۔
فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنی عقل سے محروم ہیں اور روپوش رہنما مراد سعید کے اشاروں پر پتلبی کی طرح ناچ رہے ہیں، تاہم قانون جلد تمام مفرور عناصر کو کٹہرے میں لائے گا۔
صوبے میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سرجری ہمیشہ آخری راستہ ہوتی ہے، لیکن اگر پی ٹی آئی نے صوبے کے امن کو داؤ پر لگانے اور انتشار پھیلانے سے گریز نہ کیا تو صدر اور وزیراعظم کے فیصلے کے تحت آئینی قدم اٹھایا جائے گا۔