پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اسلام آباد کی طرف 20 لاکھ کا بپھرا ہوا سیاسی طوفان لانے کا بلند بانگ دعویٰ ایک بار پھر بری طرح فلاپ ہو کر محض چند ہزار کی نااہل اور بے سمت بھیڑ ثابت ہوا ہے۔ 20 لاکھ حامیوں کو سڑکوں پر لانے کے دعوے کرنے والی قیادت 20 ہزار بندے بھی جمع کرنے میں ناکام رہی، جس نے پارٹی کی تنظیمی صلاحیت اور عوامی مقبولیت کے کھوکھلے پن کا ڈھول ایک بار پھر چوراہے پر پھوڑ دیا ہے۔ صوبائی وسائل اور سرکاری مشینری کا بے دریغ استعمال کرنے کے باوجود، خیبر پختونخوا کے عوام اور کارکنان نے سیاسی انتشار کے اس نئے تماشے کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔
احتجاجی کیمپوں اور قافلوں کے اندر سے ابھرنے والے المناک مناظر نے پارٹی کے اندرونی انتشار، بدانتظامی اور قیادت کے دوہرے معیار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ بنوں، کرک، ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع سے آئے کارکنان نے احتجاجی کیمپوں کے اندر سے ویڈیو پیغامات جاری کرتے ہوئے صوبائی قیادت اور اراکینِ اسمبلی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کارکنوں کے مطابق کیمپوں میں محض چند سو افراد کی حاضری تھی، جہاں نہ بنیادی انتظامات تھے، نہ قیادت موجود تھی اور نہ ہی پینے کا پانی یا کھانا کا معقول بندوبست تھا۔ بھوکے اور لاوارث کارکنان کا کہنا ہے کہ قیادت صرف بانی چیئرمین عمران خان کے نام پر اربوں کی فنڈنگ سمیٹنے میں دلچسپی رکھتی ہے، جبکہ سڑکوں پر دھکے کھانے والے غریب کارکنان کی حالتِ زار سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
ایک طرف خیبر پختونخوا میں حکومتی ترجیحات اور نام نہاد ‘ریاستِ مدینہ’ کے نعرے کا بھیانک تضاد اس وقت کھل کر سامنے آیا جب وزیراعلیٰ کے پی نے وفاق پر چڑھائی اور لانگ مارچ پر سیاسی پاور شو کے لیے 4 کروڑ روپے سے زائد کا سرکاری فنڈ پانی کی طرح بہا دیا۔ اس شاہ خرچی کے برعکس صوبائی دارالحکومت پشاور میں پشاور یونیورسٹی کے غریب دیہاڑی دار مزدور اپنے جائز واجبات نہ ملنے اور فاقہ کشی کی وجہ سے راتوں کو بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہیں۔
عوام اور سوسائٹی کے مختلف حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہی وہ ماڈل تھا جس کے دعوے کیے جاتے تھے؟ عوامی وسائل کو دھرنوں اور سیاسی تماشوں پر لٹانا اور اپنے ہی صوبے کے نادار محنت کشوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا بدترین حکمرانی اور عوام دشمن پالیسی کا کھلا ثبوت ہے۔
سیاسی اور انتظامی محاذ پر بھی اس مارچ کا انجام پہلے سے واضح تھا۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا کانفرنس کرتے ہوئے واضح اور سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پنجاب کے بارڈر یعنی اٹک پل کو عبور نہیں کر سکے گا۔ گورنر کنڈی کے مطابق پارٹی میں اتنی عوامی حمایت یا تنظیمی صلاحیت ہی موجود نہیں کہ وہ اٹک پل سے آگے قدم بڑھا سکے۔
طاقت کے زور پر اسلام آباد پر چڑھائی کے خواب دیکھنے والی قیادت اٹک سے پہلے ہی داخلی خلفشار، ناکام حکمتِ عملی اور کارکنوں کی مایوسی کا شکار ہو کر بکھر چکی ہے۔ یہ صورتِ حال اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ عوام اب اقتدار کی جنگ اور سیاسی انتشار کے لیے ایندھن بننے کو تیار نہیں ہیں۔