ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے کسٹمز اہلکاروں کی بروقت طبی امداد کے لیے ایمبولینس کا میسر نہ ہونا محض ایک انتظامی غفلت نہیں، بلکہ ریاست کے ترجیحی ڈھانچے پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ جب فرض کی راہ میں خون بہانے والے اہلکار اور عام شہری زندگی اور موت کی کشمکش میں بنیادی ہنگامی سہولتوں سے محروم رہیں، تو یہ صورتحال کسی بھی باضمیر معاشرے اور نظمِ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔
اس افسوسناک تصویر کا دوسرا اور تلخ پہلو یہ ہے کہ جن وسائل، بالخصوص ریسکیو ایمبولینسز اور سرکاری مشینری کو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے وقف ہونا چاہیے، وہ اکثر سیاسی احتجاج، ریلیوں اور دھرنوں میں صف بستہ نظر آتے ہیں۔ جمہوری نظام میں پُرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے، لیکن یہ حق اس وقت غیر اخلاقی اور انتظامی زیادتی کا روپ دھار لیتا ہے جب عوامی ٹیکسوں سے چلنے والے ہنگامی امدادی وسائل کو سیاسی رونق بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایمبولینس کسی سیاسی قافلے کا حصہ بننے کے لیے نہیں بلکہ اسپتالوں کی دہلیز تک زندگی کی سانسیں پہنچانے کے لیے خریدی جاتی ہیں۔
اعلیٰ عدالتیں بارہا یہ واضح کر چکی ہیں کہ ریاستی اور عوامی وسائل کا سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لیے استعمال قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود اگر ہنگامی گاڑیاں اور عملہ جلسے جلوسوں کے لیے مختص کر دیا جائے اور ہسپتالوں یا جائے حادثہ پر ان کا قحط نظر آئے، تو یہ قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد دونوں کو مجروح کرتا ہے۔ شہریوں کے لیے یہ سمجھنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ ریاست کی نظر میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ انسانی جان کی بقا سے زیادہ اہم کیوں ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ سرکاری اور بالخصوص ہنگامی طبی وسائل کے استعمال پر فوری اور شفاف نگرانی قائم کی جائے۔ عدالتِ عالیہ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ریسکیو اداروں کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک کر کے صرف اور صرف عوام کی خدمت تک محدود رکھا جائے۔ حکومتوں کی ساکھ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ ہنگامی حالات میں شہریوں کی جان کے تحفظ کی صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔
دیکھیے: پکتیکا فضائی حملے: حافظ گل بہادر گروپ نشانہ بنا، مقامی شہری کا دعویٰ