خواجہ آصف نے پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام لگاتے ہوئے گورنر راج کے آپشن کا عندیہ دے دیا۔

October 7, 2026

اٹلی میں مبینہ طور پر داعش خراسان سے وابستہ افغان شہری کی گرفتاری کے بعد سرحد پار نقل و حرکت اور سفری راستوں کی سکیورٹی پر تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔

October 7, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی ملاقات میں کشمیر، افغانستان اور علاقائی سکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔

October 7, 2026

غزہ پر مسلط جنگ کے 3 سال مکمل ہو گئے؛ مسلسل اسرائیلی جارحیت کے باعث 17 لاکھ افراد بے گھر، ملبے تلے ہزاروں لاپتا اور صحت کا نظام مکمل مفلوج ہو چکا ہے۔

October 7, 2026

غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں، جس کے دوران محصور پٹی ملبے کا ڈھیر بن گئی اور تاریخ کا بدترین انسانی بحران جنم لے چکا ہے۔

October 7, 2026

کرم آپریشن میں ہلاک دہشتگردوں کی افغان شناخت نے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ہی ملتے ہیں۔ کابل کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

October 7, 2026

خیبر پختونخوا: شہدا بے یارومددگار اور وسائل کا غلط استعمال

خیبر پختونخوا میں شہدا کے لیے ایمبولینسز کا فقدان جبکہ لانگ مارچ میں سرکاری گاڑیوں کی بھرمار نے حکومتی ترجیحات اور ہنگامی وسائل کے استعمال پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت سرکاری وسائل کا استعمال

ہنگامی طبی وسائل کا کام زندگیاں بچانا ہے، سیاسی رونق بڑھانا نہیں۔ ڈی آئی خان واقعے نے سرکاری وسائل کے سیاسی استعمال اور ترجیحات پر اہم سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

October 7, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے کسٹمز اہلکاروں کی بروقت طبی امداد کے لیے ایمبولینس کا میسر نہ ہونا محض ایک انتظامی غفلت نہیں، بلکہ ریاست کے ترجیحی ڈھانچے پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ جب فرض کی راہ میں خون بہانے والے اہلکار اور عام شہری زندگی اور موت کی کشمکش میں بنیادی ہنگامی سہولتوں سے محروم رہیں، تو یہ صورتحال کسی بھی باضمیر معاشرے اور نظمِ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔

اس افسوسناک تصویر کا دوسرا اور تلخ پہلو یہ ہے کہ جن وسائل، بالخصوص ریسکیو ایمبولینسز اور سرکاری مشینری کو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے وقف ہونا چاہیے، وہ اکثر سیاسی احتجاج، ریلیوں اور دھرنوں میں صف بستہ نظر آتے ہیں۔ جمہوری نظام میں پُرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا بنیادی حق ہے، لیکن یہ حق اس وقت غیر اخلاقی اور انتظامی زیادتی کا روپ دھار لیتا ہے جب عوامی ٹیکسوں سے چلنے والے ہنگامی امدادی وسائل کو سیاسی رونق بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایمبولینس کسی سیاسی قافلے کا حصہ بننے کے لیے نہیں بلکہ اسپتالوں کی دہلیز تک زندگی کی سانسیں پہنچانے کے لیے خریدی جاتی ہیں۔

اعلیٰ عدالتیں بارہا یہ واضح کر چکی ہیں کہ ریاستی اور عوامی وسائل کا سیاسی یا ذاتی مقاصد کے لیے استعمال قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود اگر ہنگامی گاڑیاں اور عملہ جلسے جلوسوں کے لیے مختص کر دیا جائے اور ہسپتالوں یا جائے حادثہ پر ان کا قحط نظر آئے، تو یہ قانون کی بالادستی اور عوامی اعتماد دونوں کو مجروح کرتا ہے۔ شہریوں کے لیے یہ سمجھنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ ریاست کی نظر میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ انسانی جان کی بقا سے زیادہ اہم کیوں ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ سرکاری اور بالخصوص ہنگامی طبی وسائل کے استعمال پر فوری اور شفاف نگرانی قائم کی جائے۔ عدالتِ عالیہ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ریسکیو اداروں کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک کر کے صرف اور صرف عوام کی خدمت تک محدود رکھا جائے۔ حکومتوں کی ساکھ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ ہنگامی حالات میں شہریوں کی جان کے تحفظ کی صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔

دیکھیے: پکتیکا فضائی حملے: حافظ گل بہادر گروپ نشانہ بنا، مقامی شہری کا دعویٰ

متعلقہ مضامین

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردوں کی سہولت کاری کا الزام لگاتے ہوئے گورنر راج کے آپشن کا عندیہ دے دیا۔

October 7, 2026

اٹلی میں مبینہ طور پر داعش خراسان سے وابستہ افغان شہری کی گرفتاری کے بعد سرحد پار نقل و حرکت اور سفری راستوں کی سکیورٹی پر تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔

October 7, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی ملاقات میں کشمیر، افغانستان اور علاقائی سکیورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔

October 7, 2026

غزہ پر مسلط جنگ کے 3 سال مکمل ہو گئے؛ مسلسل اسرائیلی جارحیت کے باعث 17 لاکھ افراد بے گھر، ملبے تلے ہزاروں لاپتا اور صحت کا نظام مکمل مفلوج ہو چکا ہے۔

October 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *