پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق ایک تجزیے میں انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے حکومتی فیصلے عوام کے قریب لانے، سرکاری خدمات بہتر بنانے اور مالی و سیاسی جوابدہی مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تجزیے میں پاکستان کے موجودہ چار صوبوں کی آبادی اور انتظامی ڈھانچے کو گورننس کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اس میں 16 نئے صوبوں یا 25 نئی انتظامی اکائیوں کے قیام سمیت مختلف تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
تجزیے کے مطابق پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اور صوبائی دارالحکومتوں سے دور اضلاع تک سرکاری خدمات کی فراہمی اہم مسائل ہیں۔ موجودہ نظام میں ایک ہی صوبائی حکومت کو مختلف آبادیوں، جغرافیائی حالات اور انتظامی ضروریات والے علاقوں کے مسائل حل کرنا پڑتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کی اوسط آبادی تقریباً 6 کروڑ ہے۔ اس کے باعث متعدد دور دراز علاقوں کے شہریوں کو انتظامی فیصلوں اور سرکاری خدمات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
تجزیے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 28 فیصد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جبکہ صوبائی حکومتوں کی اپنی آمدن مجموعی قومی پیداوار کے 0.9 فیصد سے بھی کم ہے۔
انتظامی اکائیوں تک مختلف تجاویز
تجزیے میں ہر موجودہ صوبے کو چار حصوں میں تقسیم کرکے 16 صوبائی سطح کی حکومتیں قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس صورت میں ہر انتظامی اکائی کی اوسط آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ رہ جائے گی۔
ایک دوسری تجویز کے تحت آبادی میں توازن یا جغرافیائی ہم آہنگی کی بنیاد پر 23 سے 25 انتظامی اکائیاں قائم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ ڈویژنوں کی بنیاد پر 30 سے زائد اکائیاں بنانے کا متبادل بھی پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان تجاویز کا مقصد صرف صوبوں کی تعداد بڑھانا نہیں، بلکہ انتظامی اختیارات، وسائل اور جوابدہی کو مقامی ضروریات کے مطابق ترتیب دینا ہے۔
مالی وسائل اور اختیارات ضروری
تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنے کے ساتھ انہیں مناسب مالی وسائل، ٹیکس وصولی کے اختیارات، انتظامی صلاحیت اور واضح ذمہ داریاں دینا بھی ضروری ہوگا۔
پاکستان میں 18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کے اختیارات اور وفاقی وسائل میں ان کے حصے میں اضافہ کیا گیا۔ تاہم تجزیے کے مطابق انتظامی فیصلوں اور مقامی آبادیوں کی ضروریات کے درمیان فاصلہ اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
اس حوالے سے لاہور اور بلوچستان کے ضلع ہرنائی کی آبادیوں کا فرق بھی پیش کیا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق مختلف آبادیوں اور علاقوں کی ضروریات کو ایک ہی صوبائی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر انداز میں پورا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
انتظامی تقسیم کی مثالیں
تجزیے میں نائجیریا، انڈونیشیا اور کینیا سمیت دیگر ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں، جنہوں نے وقت کے ساتھ اپنے انتظامی ڈھانچوں میں تبدیلیاں کیں۔
نائجیریا میں ریاستوں کی تعداد بڑھ کر 36 ہو گئی، جبکہ انڈونیشیا میں صوبوں کی تعداد 38 تک پہنچ چکی ہے۔ کینیا نے بھی 2013 میں آٹھ صوبوں کی جگہ 47 منتخب کاؤنٹی حکومتیں قائم کیں۔
تاہم تجزیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ صرف انتظامی اکائیوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں۔ اگر نئی اکائیوں کو مالی وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت فراہم نہ کی جائے تو وہ عوام کو مؤثر خدمات دینے میں ناکام رہ سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انتظامی اصلاحات کے لیے آبادی، اختیارات، مالی وسائل اور جوابدہی کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے، تاکہ حکومتی فیصلے مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور عوام کو بہتر سرکاری خدمات میسر آ سکیں۔
دیکھیے: پُرامن لوگ کیل لگے ڈنڈے نہیں لاتے، پی ٹی آئی کو اسلام آباد نہیں آنے دیں گے، عطا تارڑ