"> عطا تارڑ اور اختیار ولی کی پی ٹی آئی پر تنقید، کے پی حکومت سے سوالات
بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سی ٹی ڈی آپریشن کے دوران فتنۃ الہندوستان کے 10 دہشت گرد ہلاک اور 2 اہلکار زخمی ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہرایا۔

October 10, 2026

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس 11 اکتوبر کو متوقع ہے۔

October 10, 2026

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی پانچویں برسی پر ان کی سائنسی خدمات اور قومی اعزازات کو یاد کیا جا رہا ہے۔

October 10, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ فراڈ میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔

October 10, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی آج ملاقات متوقع ہے، جس میں خیبر پختونخوا کی صورت حال اور سیاسی تناؤ کم کرنے کے امکانات پر مشاورت ہوگی۔

October 10, 2026

خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مسترد کر دیا۔ عوام نے ثابت کر دیا کہ انہیں سیاسی تماشے نہیں، بلکہ امن اور ترقی چاہیے۔

October 10, 2026

پی ٹی آئی نے کے پی کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا، صوبہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا، عطا اللہ تارڑ

عطا تارڑ اور اختیار ولی نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردی، صحت کارڈ، یونیورسٹیوں اور ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے الزامات عائد کیے۔
خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید

عطا تارڑ اور اختیار ولی نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردی، صحت کارڈ، یونیورسٹیوں اور ترقیاتی فنڈز کے حوالے سے الزامات عائد کیے۔

October 10, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو دہشت گردی، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کے معاملے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے افراد کو دوبارہ آباد کیا، جس سے صوبے کے امن کو نقصان پہنچا۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

عطا تارڑ کا سوال

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور امن کی بحالی کے لیے قربانیاں دی گئیں۔ ان کے بقول، خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

عطا تارڑ نے کوہاٹ، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے پولیس کی استعداد بڑھانے، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو جدید وسائل دینے اور حساس مقامات پر نگرانی کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ خیبر پختونخوا کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت تقریباً 700 ارب روپے ملے، لیکن صوبے میں اس حوالے سے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس رقم اور اس کے استعمال کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ متن میں شامل نہیں۔

اختیار ولی کے اعتراضات

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے بھی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 13 سے 14 برس کے دوران تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی اور صوبے کی 34 میں سے 18 یونیورسٹیاں مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

اختیار ولی نے صحت کارڈ، سرکاری اسپتالوں اور ادویات کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے کزن نوشیروان برکی سمیت بعض افراد کا ذکر کرتے ہوئے طبی سہولتوں اور اسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل میں شامل کرنے کے عمل پر سوالات اٹھائے۔

ان الزامات کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں۔ متعلقہ افراد یا صوبائی حکومت کا مؤقف بھی اس متن میں موجود نہیں، اس لیے ان دعوؤں کو الزامات ہی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ترقیاتی فنڈز

اختیار ولی نے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں، پولیس کی استعداد، سڑکوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی صورت حال پر بھی تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ انضمام کے بعد ترقی کے لیے مختص وسائل مطلوبہ مقاصد پر خرچ نہیں کیے گئے۔

انہوں نے جنگلات کی کٹائی، ٹمبر مافیا اور بعض سیاسی رہنماؤں کے اثاثوں میں اضافے سے متعلق دعوے بھی کیے۔ اختیار ولی نے ان معاملات کی تحقیقات اور حکومتی وسائل کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں ان الزامات پر صوبائی حکومت یا تحریک انصاف کا جواب شامل نہیں ہے۔

متعلقہ مضامین

بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سی ٹی ڈی آپریشن کے دوران فتنۃ الہندوستان کے 10 دہشت گرد ہلاک اور 2 اہلکار زخمی ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے کا عزم دہرایا۔

October 10, 2026

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس 11 اکتوبر کو متوقع ہے۔

October 10, 2026

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی پانچویں برسی پر ان کی سائنسی خدمات اور قومی اعزازات کو یاد کیا جا رہا ہے۔

October 10, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ فراڈ میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔

October 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *