وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو دہشت گردی، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں کے معاملے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے افراد کو دوبارہ آباد کیا، جس سے صوبے کے امن کو نقصان پہنچا۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔
عطا تارڑ کا سوال
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور امن کی بحالی کے لیے قربانیاں دی گئیں۔ ان کے بقول، خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔
عطا تارڑ نے کوہاٹ، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے پولیس کی استعداد بڑھانے، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو جدید وسائل دینے اور حساس مقامات پر نگرانی کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا دعویٰ تھا کہ خیبر پختونخوا کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت تقریباً 700 ارب روپے ملے، لیکن صوبے میں اس حوالے سے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس رقم اور اس کے استعمال کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ متن میں شامل نہیں۔
اختیار ولی کے اعتراضات
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے بھی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 13 سے 14 برس کے دوران تعلیم اور صحت کے شعبوں میں خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی اور صوبے کی 34 میں سے 18 یونیورسٹیاں مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
اختیار ولی نے صحت کارڈ، سرکاری اسپتالوں اور ادویات کی خریداری میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کے کزن نوشیروان برکی سمیت بعض افراد کا ذکر کرتے ہوئے طبی سہولتوں اور اسپتالوں کو صحت کارڈ کے پینل میں شامل کرنے کے عمل پر سوالات اٹھائے۔
ان الزامات کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں۔ متعلقہ افراد یا صوبائی حکومت کا مؤقف بھی اس متن میں موجود نہیں، اس لیے ان دعوؤں کو الزامات ہی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ترقیاتی فنڈز
اختیار ولی نے قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں، پولیس کی استعداد، سڑکوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی صورت حال پر بھی تنقید کی۔ ان کا الزام تھا کہ انضمام کے بعد ترقی کے لیے مختص وسائل مطلوبہ مقاصد پر خرچ نہیں کیے گئے۔
انہوں نے جنگلات کی کٹائی، ٹمبر مافیا اور بعض سیاسی رہنماؤں کے اثاثوں میں اضافے سے متعلق دعوے بھی کیے۔ اختیار ولی نے ان معاملات کی تحقیقات اور حکومتی وسائل کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن و امان، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں ان الزامات پر صوبائی حکومت یا تحریک انصاف کا جواب شامل نہیں ہے۔