بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز سے امریکی ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر مبینہ فراڈ کے معاملے میں ایک ملزم گرفتار کرلیا گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے طالبہ کے اہل خانہ کی درخواست پر دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر لائبہ اعجاز اور ان کے اہل خانہ سے امریکی ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے بہانے 93 لاکھ روپے وصول کیے۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے 10 اکتوبر 2026 کو مقدمہ درج کیا۔ مقدمے میں محمد نعمان بدی الزمان اور فاطمہ سرور کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی میں داخلے کے آفر لیٹرز اور فیس کی ادائیگی کی رسیدیں تیار کرکے متاثرہ خاندان کو دھوکے میں رکھا۔
تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے وصول کیے گئے، جبکہ باقی رقم نقد ادا کی گئی۔
مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 419، 420 اور 109 سمیت امیگریشن آرڈیننس 1979 کی متعلقہ دفعات 18 اور 22 کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایک ملزم گرفتار، تفتیش جاری
میڈیا رپورٹس کے مطابق ویزا فراڈ کے مقدمے میں نامزد ملزم نعمان کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملزم ایک گھر کے تہہ خانے میں چھپا ہوا تھا۔ پولیس ملزم سے تفتیش کررہی ہے۔
لائبہ اعجاز کے اہل خانہ نے ان کی تدفین کے بعد ایف آئی اے سے رجوع کیا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق مقدمے میں مالی فراڈ اور اس کے نتیجے میں طالبہ کی وفات سے متعلق الزامات شامل ہیں۔
لائبہ اعجاز امریکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرکے سائنس دان بننے کی خواہش رکھتی تھیں۔ اس واقعے نے ان کے اہل خانہ اور علاقے میں غم کی فضا پیدا کردی ہے۔
مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین قانونی کارروائی اور شواہد کی روشنی میں ہوگا۔