خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہو گیا ہے۔ عوام اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور اسے 13 سالہ مشکلات سے نجات کا دن قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، اور دیر سمیت متاثرہ اضلاع میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا۔ عوام نے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے، رقص کیا اور ایک دوسرے میں مٹھائیاں تقسیم کیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت کے دور میں بدامنی، بے روزگاری اور ناکام وعدوں سے عوام شدید متاثر تھے، جس کے بعد اب صوبے میں امن اور ترقی کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
احتجاج مسترد
ایمرجنسی اور گورنر راج کے باوجود صوبے بھر میں بازار کھلے ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔ پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی کال اور مزاحمت کو عوامی سطح پر مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔
یہاں تک کہ لانگ مارچ کے لیے استعمال ہونے والا کنٹینر بھی کباڑی کی دکان پر پہنچ چکا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اب سیاسی انتشار کے بجائے امن چاہتے ہیں۔
سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل
پشاور سے سامنے آنے والی اہم خبر کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لینے کا فیصلہ خود پی ٹی آئی کی درخواست اور مشاورت پر حکومت نے کیا۔ شاہد خٹک اور دیگر قریبی ذرائع نے ان رہنماؤں کی حفاظتی تحویل میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
عوامی رہنماؤں اور صحافیوں کا ردعمل
سینیٹر بہرہ مند تنگی، رکن صوبائی اسمبلی جلال خان، صحافی نعیم اللہ یوسفزئی اور دیر سے تنویر احمد سمیت متعدد رہنماؤں نے صوبے کے عوام کو مبارکباد پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام اب دہشت گردی، بدامنی اور کھوکھلے وعدوں کا مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتے تھے۔
تمام حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی حکومت ترجیحی بنیادوں پر امن و امان، روزگار اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے گی۔