خیبر پختونخوا میں تیرا سالہ حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حوالے سے سیاسی تنقید سامنے آئی ہے، جس میں صوبے کی صورتحال کا پنجاب سے موازنہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو گزشتہ تیرہ برس کے دوران دھرنوں، سیاسی انتشار اور احتجاجی سیاست کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق زیرِ بحث معاملات عوام کی ناکامی نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری حکومتی نااہلی اور ناقص ترجیحات کا نتیجہ ہیں۔
بیان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کا موازنہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایک ہی ملک، آئین اور قومی وسائل کا حصہ ہونے کے باوجود دونوں صوبوں میں ترقی، امن و امان اور عوامی سہولتوں کی صورتحال مختلف کیوں ہے۔
اس حوالے سے صفائی، طلبہ کے لیے اسکالرشپس، خواتین کے تحفظ، گرین الیکٹرو بسوں، دیہی سڑکوں اور صحت کی سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پنجاب میں ان شعبوں پر کام ہو رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں عوام کو درپیش مسائل بدستور توجہ کے متقاضی ہیں۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے احتجاجی سیاست اور اقتدار کے حصول کو ترجیح دی گئی۔
اس میں مؤقف اپنایا گیا کہ صوبے کو مزید سیاسی کشیدگی کے بجائے عملی اقدامات، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کی ضرورت ہے۔ بیان کے مطابق حکومتوں کی کامیابی کا معیار سیاسی نعروں کے بجائے ترقیاتی کام، امن و امان اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہونا چاہیے۔





