"> خیبر پختونخوا میں 13 سالہ کارکردگی پر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کے پی کی 13 سالہ کارکردگی پر سنیگن سوالات اور پنجاب سے موازنہ

خیبر پختونخوا کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صوبے کو احتجاجی سیاست کے بجائے ترقی، امن اور عوامی خدمت کی ضرورت
خیبر پختونخوا اور پنجاب کا موازنہ

خیبر پختونخوا میں تیرہ سالہ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور عوامی سہولتوں کے حوالے سے پنجاب سے موازنہ کیا گیا ہے۔

October 13, 2026

خیبر پختونخوا میں تیرا سالہ حکمرانی، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حوالے سے سیاسی تنقید سامنے آئی ہے، جس میں صوبے کی صورتحال کا پنجاب سے موازنہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

بیان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو گزشتہ تیرہ برس کے دوران دھرنوں، سیاسی انتشار اور احتجاجی سیاست کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق زیرِ بحث معاملات عوام کی ناکامی نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری حکومتی نااہلی اور ناقص ترجیحات کا نتیجہ ہیں۔

بیان میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کا موازنہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایک ہی ملک، آئین اور قومی وسائل کا حصہ ہونے کے باوجود دونوں صوبوں میں ترقی، امن و امان اور عوامی سہولتوں کی صورتحال مختلف کیوں ہے۔

اس حوالے سے صفائی، طلبہ کے لیے اسکالرشپس، خواتین کے تحفظ، گرین الیکٹرو بسوں، دیہی سڑکوں اور صحت کی سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پنجاب میں ان شعبوں پر کام ہو رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں عوام کو درپیش مسائل بدستور توجہ کے متقاضی ہیں۔

بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے احتجاجی سیاست اور اقتدار کے حصول کو ترجیح دی گئی۔

اس میں مؤقف اپنایا گیا کہ صوبے کو مزید سیاسی کشیدگی کے بجائے عملی اقدامات، بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کی ضرورت ہے۔ بیان کے مطابق حکومتوں کی کامیابی کا معیار سیاسی نعروں کے بجائے ترقیاتی کام، امن و امان اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہونا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *