"> خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق

کے پی میں ایمرجنسی کی توثیق کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش

قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قرارداد اور صدارتی فرمان پیش کر دیا گیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے ایمرجنسی کو آخری آپشن قرار دیا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کر دی گئی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے امن و امان اور دہشت گردی کی صورت حال پر اظہار خیال کیا۔

October 14, 2026

قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قرارداد اور صدارتی فرمان پیش کر دیا گیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر ایمرجنسی کا فیصلہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد بحث کے لیے پیش کی۔ ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان بھی ایوان میں پیش کیا گیا۔

طارق فضل چوہدری کی درخواست پر قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات معطل کر دیا گیا تاکہ ایمرجنسی سے متعلق معاملے پر کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔

ایمرجنسی آخری آپشن تھا

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کا رویہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا تھا۔ ان کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں ڈھائی گھنٹے کی مشاورت کے بعد ایمرجنسی کی تجویز دی گئی۔

اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے دہشت گردی اور سکیورٹی فورسز سمیت شہریوں کی شہادتوں کے بجائے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو نظر انداز کرکے وفاق کی جانب مارچ کے اعلانات کیے گئے۔

دہشت گردی کے واقعات

وزیر قانون نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے واقعات کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق 2024ء تک دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025ء سے اب تک ایسے واقعات کی تعداد 3,787 رہی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے معاملات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے اور مذاکرات کے ذریعے پیش رفت کی کوشش کی، تاہم دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے بجائے سیاسی مطالبات پر زور دیا جاتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کا فیصلہ خوشی سے نہیں بلکہ غیر معمولی صورت حال میں آخری راستے کے طور پر کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد دس روز کے اندر قومی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنا لازم ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے لیے سیاست سے زیادہ ریاست اور قومی سلامتی اہم ہے۔

متعلقہ مضامین

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ فحش فعل کے الزام میں گرفتار بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو 14 اکتوبر کو سزائے موت دے دی گئی۔

October 15, 2026

البانیا کے دارالحکومت تیرانا میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ وزیراعظم ایڈی راما نے مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔

October 15, 2026

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے آخری وقت تک مذاکرات کی کوشش کی۔

October 15, 2026

ڈراما حرمت شرعی پردے کی تضحیک پر شدید تنازع کا شکار ہے۔ فیملی ولاگنگ کے بعد ٹی وی اسکرینز پر اسلامی اقدار کے خلاف بیانیہ اخلاقی بحران کا باعث بن رہا ہے۔

October 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *