قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قرارداد اور صدارتی فرمان پیش کر دیا گیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر ایمرجنسی کا فیصلہ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق سے متعلق قرارداد بحث کے لیے پیش کی۔ ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی فرمان بھی ایوان میں پیش کیا گیا۔
طارق فضل چوہدری کی درخواست پر قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات معطل کر دیا گیا تاکہ ایمرجنسی سے متعلق معاملے پر کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
ایمرجنسی آخری آپشن تھا
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کا رویہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا تھا۔ ان کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں ڈھائی گھنٹے کی مشاورت کے بعد ایمرجنسی کی تجویز دی گئی۔
اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے دہشت گردی اور سکیورٹی فورسز سمیت شہریوں کی شہادتوں کے بجائے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال کو نظر انداز کرکے وفاق کی جانب مارچ کے اعلانات کیے گئے۔
دہشت گردی کے واقعات
وزیر قانون نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے واقعات کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق 2024ء تک دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025ء سے اب تک ایسے واقعات کی تعداد 3,787 رہی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت نے معاملات کو جمہوری طریقے سے حل کرنے اور مذاکرات کے ذریعے پیش رفت کی کوشش کی، تاہم دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے بجائے سیاسی مطالبات پر زور دیا جاتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کا فیصلہ خوشی سے نہیں بلکہ غیر معمولی صورت حال میں آخری راستے کے طور پر کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے بعد دس روز کے اندر قومی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنا لازم ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے لیے سیاست سے زیادہ ریاست اور قومی سلامتی اہم ہے۔





