تیرانا: فرانس کے بعد البانیا میں بھی طلبہ تعلیم اور روزگار کے مسائل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت تیرانا میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔
طلبہ نے جامعات میں سہولیات کی کمی، اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالی معاونت میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں اور اپنے مطالبات کے حل کے لیے پُرامن راستہ اختیار کریں۔
البانیا میں طلبہ کا احتجاج
دارالحکومت تیرانا میں احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور واٹر کینن استعمال کی۔ اس دوران متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعات میں بنیادی سہولیات کی کمی، تعلیمی اخراجات میں اضافہ اور مالی معاونت کے محدود مواقع ان کے اہم مسائل ہیں۔ مظاہرین اعلیٰ تعلیم تک رسائی آسان بنانے اور طلبہ کے لیے حکومتی امداد بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
البانیا میں یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانس میں بھی طلبہ تعلیمی نظام کے مسائل اور سہولیات کی کمی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔
طلبہ کو مذاکرات کی دعوت
البانیا کے وزیراعظم ایڈی راما نے تیرانا میں دو روزہ پرتشدد جھڑپوں کے بعد طلبہ کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مطالبات پر بات چیت کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم ایڈی راما نے جمعرات کو کالج آف یورپ کے متاثرہ دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ہی ملک کا مستقبل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طلبہ کے ساتھ بیٹھنے، مشاورت کرنے اور مسائل کا حل نکالنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم وزیراعظم نے اپوزیشن گروہوں پر الزام لگایا کہ وہ احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات البانیا کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
یورپی یونین کا اظہار تشویش
اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔ مظاہرین نے کوڑے دانوں کو آگ لگائی اور وزارت تعلیم کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔
اس دوران وزارت تعلیم کی عمارت، دکانوں اور ایک بینک کی شاخ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بینک کے اندر دستاویزات کو آگ لگانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے منگل کو سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے اور سٹی ہال پر حملے کے الزام میں 16 افراد کو گرفتار کیا تھا۔
البانیا کی نائب وزیراعظم نے مظاہرین سے تشدد سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں پر حملے اور املاک کو نقصان پہنچانا مسائل کا حل نہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین نے تشدد میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یورپی یونین نے کشیدگی کم کرنے اور مظاہرین و صحافیوں کے خلاف پولیس کے مبینہ تشدد کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
طلبہ کے احتجاج میں وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے اور مالی معاونت میں اضافے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا بات چیت کے ذریعے طلبہ کے مطالبات پر پیش رفت ہو سکے گی یا احتجاج جاری رہے گا۔





