"> فرانس کے بعد البانیہ میں طلبہ سڑکوں پر، تعلیم اور روزگار کے مسائل پر احتجاج - HTN Urdu

فرانس کے بعد البانیہ میں طلبہ سڑکوں پر، تعلیم اور روزگار کے مسائل پر احتجاج

البانیا کے دارالحکومت تیرانا میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ وزیراعظم ایڈی راما نے مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔
البانیا میں طلبہ کا احتجاج

البانیا میں طلبہ کا تعلیم، روزگار اور مالی معاونت کے مسائل پر احتجاج، تیرانا میں پولیس سے جھڑپیں اور وزیراعظم ایڈی راما کی مذاکرات کی پیشکش۔

October 15, 2026

تیرانا: فرانس کے بعد البانیا میں بھی طلبہ تعلیم اور روزگار کے مسائل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت تیرانا میں احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ متعدد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔

طلبہ نے جامعات میں سہولیات کی کمی، اعلیٰ تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالی معاونت میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں اور اپنے مطالبات کے حل کے لیے پُرامن راستہ اختیار کریں۔

البانیا میں طلبہ کا احتجاج

دارالحکومت تیرانا میں احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور واٹر کینن استعمال کی۔ اس دوران متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعات میں بنیادی سہولیات کی کمی، تعلیمی اخراجات میں اضافہ اور مالی معاونت کے محدود مواقع ان کے اہم مسائل ہیں۔ مظاہرین اعلیٰ تعلیم تک رسائی آسان بنانے اور طلبہ کے لیے حکومتی امداد بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

البانیا میں یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانس میں بھی طلبہ تعلیمی نظام کے مسائل اور سہولیات کی کمی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

طلبہ کو مذاکرات کی دعوت

البانیا کے وزیراعظم ایڈی راما نے تیرانا میں دو روزہ پرتشدد جھڑپوں کے بعد طلبہ کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مطالبات پر بات چیت کرنے اور مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم ایڈی راما نے جمعرات کو کالج آف یورپ کے متاثرہ دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ ہی ملک کا مستقبل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طلبہ کے ساتھ بیٹھنے، مشاورت کرنے اور مسائل کا حل نکالنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم وزیراعظم نے اپوزیشن گروہوں پر الزام لگایا کہ وہ احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات البانیا کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یورپی یونین کا اظہار تشویش

اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران بعض مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔ مظاہرین نے کوڑے دانوں کو آگ لگائی اور وزارت تعلیم کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔

اس دوران وزارت تعلیم کی عمارت، دکانوں اور ایک بینک کی شاخ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بینک کے اندر دستاویزات کو آگ لگانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے منگل کو سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے اور سٹی ہال پر حملے کے الزام میں 16 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

البانیا کی نائب وزیراعظم نے مظاہرین سے تشدد سے گریز کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں پر حملے اور املاک کو نقصان پہنچانا مسائل کا حل نہیں۔

دوسری جانب یورپی یونین نے تشدد میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یورپی یونین نے کشیدگی کم کرنے اور مظاہرین و صحافیوں کے خلاف پولیس کے مبینہ تشدد کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

طلبہ کے احتجاج میں وزیراعظم ایڈی راما کے استعفے اور مالی معاونت میں اضافے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا بات چیت کے ذریعے طلبہ کے مطالبات پر پیش رفت ہو سکے گی یا احتجاج جاری رہے گا۔

متعلقہ مضامین

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ کی ایک مسجد میں مبینہ فحش فعل کے الزام میں گرفتار بنگلہ دیشی مرد اور خاتون کو 14 اکتوبر کو سزائے موت دے دی گئی۔

October 15, 2026

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے آخری وقت تک مذاکرات کی کوشش کی۔

October 15, 2026

ڈراما حرمت شرعی پردے کی تضحیک پر شدید تنازع کا شکار ہے۔ فیملی ولاگنگ کے بعد ٹی وی اسکرینز پر اسلامی اقدار کے خلاف بیانیہ اخلاقی بحران کا باعث بن رہا ہے۔

October 15, 2026

انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد پی ٹی آئی کا بیانیہ ناکام ہو گیا۔ صوبے میں صرف 16 علامتی احتجاج ہوئے جن میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر رہی۔

October 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *