"> مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی: پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان گٹھ جوڑ بے نقاب

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی رہنما مراد سعید افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد سیاسی و عسکری حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی

مراد سعید کی افغانستان میں موجودگی اور ٹی ٹی اے سے تعلقات کے دعوؤں پر مبنی تازہ ترین سیاسی صورتِ حال اور تجزیہ۔

October 16, 2026

افغان میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اشتہاری رہنما مراد سعید افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے مرکز شاران میں افغان طالبان کے رہنما مولوی عبدالخالق آخوند کی پناہ میں موجود ہیں۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔

صحافی حسن خان اور جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے شہر شرنہ میں موجود ہیں، جہاں انہیں افغان طالبان کے مقامی رہنما عبدالخالق اخوند نے پناہ دے رکھی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور حکومتی حلقوں کی جانب سے اس صورتِ حال کو پی ٹی آئی، کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان فکری اور عملی اشتراک قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف کے پی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی اور دوسری طرف مرکزی رہنما کا دشمن کی سرزمین پر پناہ لینا کسی بڑے گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے۔

مختلف بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ اپنانے والے اور اداروں پر تنقید کرنے والے عناصر اب کھل کر بیرونی پناہ گاہوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ وفاقی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے بچانے کے لیے سخت اور بروقت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب، انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے جہاں مختلف آراء کے ذریعے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی پاکستان کے اندر دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے؟

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *