افغان میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اشتہاری رہنما مراد سعید افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے مرکز شاران میں افغان طالبان کے رہنما مولوی عبدالخالق آخوند کی پناہ میں موجود ہیں۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔
صحافی حسن خان اور جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے شہر شرنہ میں موجود ہیں، جہاں انہیں افغان طالبان کے مقامی رہنما عبدالخالق اخوند نے پناہ دے رکھی ہے۔
*بریکنگ نیوز: مراد سعید مل گیا*
— Javed Chaudhry (@JavedChOfficial) October 15, 2026
افغان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما مراد سعید اس وقت افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے شہر شرنہ میں موجود ہیں ، مراد سعید کو شرنہ میں افغان طالبان (TTA) کے مقامی رہنما عبد الخالق آخوند نے پناہ دی ہے pic.twitter.com/4NPKtSFRrG
سیاسی تجزیہ کاروں اور حکومتی حلقوں کی جانب سے اس صورتِ حال کو پی ٹی آئی، کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان فکری اور عملی اشتراک قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف کے پی میں عسکریت پسندوں کی موجودگی اور دوسری طرف مرکزی رہنما کا دشمن کی سرزمین پر پناہ لینا کسی بڑے گٹھ جوڑ کا ثبوت ہے۔
According to Intelligence source the PTI leader & former Federal Minister Murad Saeed is hiding in eastern Afghanistan. Kabul based Intel say Murad Saeed is in Sharana city of Paktika province Afghanistan sheltered by the Afghan Taliban local leader Abdul Khalique Akhund.…
— Hassan khan (@hasankhyber) October 15, 2026
مختلف بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ریاست مخالف بیانیہ اپنانے والے اور اداروں پر تنقید کرنے والے عناصر اب کھل کر بیرونی پناہ گاہوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ وفاقی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں سے بچانے کے لیے سخت اور بروقت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے جہاں مختلف آراء کے ذریعے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تحریک انصاف واقعی پاکستان کے اندر دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے؟





