"> آزاد کشمیر: ٹرانسپورٹ مالکان
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

آزاد کشمیر: ٹرانسپورٹ مالکان کا فسادی جتھے اور احتجاجی گروہوں سے لاتعلقی کا اعلان

آزاد کشمیر میں ٹرانسپورٹ مالکان نے مسلسل ہڑتالوں اور انتشار پسندانہ سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ذاتی مفادات کے لیے عوام کا روزگار داؤ پر لگانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
آزاد کشمیر کے ٹرانسپورٹر

آزاد کشمیر کے ٹرانسپورٹ مالکان نے فسادی جتھوں سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ عوام اور تجارتی طبقات کا یہ اقدام خطے میں امن اور معاشی استحکام کی طرف اہم قدم ہے۔

October 16, 2026

آزاد کشمیر میں انتشار پسندانہ سیاست کے خلاف ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ٹرانسپورٹ مالکان نے احتجاجی گروہوں اور فسادی جتھے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں امن اور معاشی استحکام کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

آزاد کشمیر کے ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے اس احتجاجی گروہ سے لاتعلقی کا اعلان اس بات کی واضع نشاندہی کرتا ہے کہ اب عوام میں مسلسل ہڑتالوں سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے خلاف ایک شدید مزاحمت پیدا ہو چکی ہے۔ عوام نے محسوس کر لیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے کا پہیہ جام ہو رہا ہے۔

حقوق کی جعلی آڑ میں غریب عوام کے روزگار اور روزی روٹی کو داؤ پر لگانے کی اس منفی حکمتِ عملی کو آزاد کشمیر کے باشعور اور ذمہ دار طبقے نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتشار کا حصہ بننے کے بجائے اپنے کاروبار اور روزگار کو ترجیح دیتے ہیں۔

آئے روز کی غیر ضروری ہڑتالوں اور دھرنوں سے غریب ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی روزمرہ کی فاقہ کشی اس بات کی شدید متقاضی تھی کہ انتشار پسندانہ سیاست کو چھوڑ کر معاشی و معاشرتی استوار کاری کو فوقیت دی جائے۔

عوامی اور تجارتی طبقات کا یہ پختہ اور بروقت اقدام یہ ثابت کرتا ہے کہ ذاتی اور سیاسی مفادات پر مبنی ہتھکنڈوں کی اب اس خطے میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عوام اب ترقی اور امن کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔

یہ تازہ پیش رفت آزاد کشمیر میں پائیدار معاشی استحکام، امن اور قانون کی حکمرانی کی جانب ایک دور رس اور فیصلہ کن قدم ہے۔ اس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *