آزاد کشمیر میں انتشار پسندانہ سیاست کے خلاف ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ٹرانسپورٹ مالکان نے احتجاجی گروہوں اور فسادی جتھے سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو خطے میں امن اور معاشی استحکام کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
آزاد کشمیر کے ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے اس احتجاجی گروہ سے لاتعلقی کا اعلان اس بات کی واضع نشاندہی کرتا ہے کہ اب عوام میں مسلسل ہڑتالوں سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے خلاف ایک شدید مزاحمت پیدا ہو چکی ہے۔ عوام نے محسوس کر لیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے کا پہیہ جام ہو رہا ہے۔
حقوق کی جعلی آڑ میں غریب عوام کے روزگار اور روزی روٹی کو داؤ پر لگانے کی اس منفی حکمتِ عملی کو آزاد کشمیر کے باشعور اور ذمہ دار طبقے نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتشار کا حصہ بننے کے بجائے اپنے کاروبار اور روزگار کو ترجیح دیتے ہیں۔
آئے روز کی غیر ضروری ہڑتالوں اور دھرنوں سے غریب ڈرائیورز اور کنڈکٹرز کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی روزمرہ کی فاقہ کشی اس بات کی شدید متقاضی تھی کہ انتشار پسندانہ سیاست کو چھوڑ کر معاشی و معاشرتی استوار کاری کو فوقیت دی جائے۔
عوامی اور تجارتی طبقات کا یہ پختہ اور بروقت اقدام یہ ثابت کرتا ہے کہ ذاتی اور سیاسی مفادات پر مبنی ہتھکنڈوں کی اب اس خطے میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ عوام اب ترقی اور امن کے ساتھ جینا چاہتے ہیں۔
یہ تازہ پیش رفت آزاد کشمیر میں پائیدار معاشی استحکام، امن اور قانون کی حکمرانی کی جانب ایک دور رس اور فیصلہ کن قدم ہے۔ اس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔





