"> امریکی اسلحہ پاکستان کے لیے سنگین چیلنج
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان سرزمین اور دہشت گردی؛ امریکی اسلحہ پاکستان کے لیے سنگین چیلنج

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
امریکی اسلحہ پاکستان کے لیے سنگین چیلنج

طارق رشید کا انٹرویو؛ افغانستان میں امریکی ہتھیاروں کی دہشت گردوں تک رسائی، پاکستان میں بڑھتے حملے اور عالمی برادری کی ذمہ داریوں کا احاطہ۔

October 16, 2026

امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے جدید عسکری سازوسامان نے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار طارق رشید نے اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ نیٹو اور امریکی فورسز کے چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے ہتھیار کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔

امریکہ کے انخلا کے وقت افغانستان میں سات ارب بارہ کروڑ ڈالر مالیت کا جنگی سامان موجود تھا جس میں ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار رائفلیں، اکتالیس ہزار سے زائد مشین گنز اور چالیس ہزار سے زیادہ فوجی گاڑیاں شامل ہیں۔ یہ جدید ترین سازوسامان اب دہشت گرد پراکسیز کے استعمال میں ہے جو افغان طالبان کی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔

عالمی ادارے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت افغانستان کی سرزمین پر بیس سے زائد دہشت گرد تنظیمیں اور تیرہ ہزار سے زائد عسکریت پسند موجود ہیں جن میں ساڑھے چھ ہزار کے قریب ٹی ٹی پی کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کو حاصل حمایت اور اسلحے کی اس مسلسل فراہمی نے پاکستان کے سیکورٹی چیلنجز میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے دو سو ترانوے امریکی ساختہ ہتھیار برآمد کیے ہیں جن میں ایم چودہ، ایم سولہ اور ایم چوبیس رائفلوں کے علاوہ نائٹ ویژن اور تھرمل آلات بھی شامل ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے نتیجے میں حملوں کی تعداد دو ہزار اکیس کے نواسی سے بڑھ کر گزشتہ سال چھ سو ننانوے تک پہنچ گئی ہے جبکہ رواں برس اب تک تیرہ سو ستائیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

عالمی برادری بالخصوص امریکہ، چین اور روس کو انسداد دہشت گردی کے امور میں پاکستان کے ساتھ عملی تعاون کرنا چاہیے۔ افغان طالبان حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنی دوحہ کی یقین دہانیوں کو پورا کرے، سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ بند کرے اور افغانستان میں ایک جامع حکومت کی تشکیل کے ساتھ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔

دیکھیے: روسی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سکیورٹی تعاون پر گفتگو

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں معدنی معاہدوں کی بدعنوانی اور طالبان دھڑوں کی کشمکش نے بدخشاں اور تخار میں بدامنی بڑھا دی ہے۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *