امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے جدید عسکری سازوسامان نے پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کار طارق رشید نے اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ نیٹو اور امریکی فورسز کے چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے ہتھیار کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔
امریکہ کے انخلا کے وقت افغانستان میں سات ارب بارہ کروڑ ڈالر مالیت کا جنگی سامان موجود تھا جس میں ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار رائفلیں، اکتالیس ہزار سے زائد مشین گنز اور چالیس ہزار سے زیادہ فوجی گاڑیاں شامل ہیں۔ یہ جدید ترین سازوسامان اب دہشت گرد پراکسیز کے استعمال میں ہے جو افغان طالبان کی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔
عالمی ادارے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت افغانستان کی سرزمین پر بیس سے زائد دہشت گرد تنظیمیں اور تیرہ ہزار سے زائد عسکریت پسند موجود ہیں جن میں ساڑھے چھ ہزار کے قریب ٹی ٹی پی کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کو حاصل حمایت اور اسلحے کی اس مسلسل فراہمی نے پاکستان کے سیکورٹی چیلنجز میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔
پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے دو سو ترانوے امریکی ساختہ ہتھیار برآمد کیے ہیں جن میں ایم چودہ، ایم سولہ اور ایم چوبیس رائفلوں کے علاوہ نائٹ ویژن اور تھرمل آلات بھی شامل ہیں۔ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے نتیجے میں حملوں کی تعداد دو ہزار اکیس کے نواسی سے بڑھ کر گزشتہ سال چھ سو ننانوے تک پہنچ گئی ہے جبکہ رواں برس اب تک تیرہ سو ستائیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
عالمی برادری بالخصوص امریکہ، چین اور روس کو انسداد دہشت گردی کے امور میں پاکستان کے ساتھ عملی تعاون کرنا چاہیے۔ افغان طالبان حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنی دوحہ کی یقین دہانیوں کو پورا کرے، سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ بند کرے اور افغانستان میں ایک جامع حکومت کی تشکیل کے ساتھ انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے۔
دیکھیے: روسی وزیر داخلہ کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات، سکیورٹی تعاون پر گفتگو





