امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں مدد دینے کی اسرائیلی پیشکش قبول کر لے۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیل سعودی عرب کے لیے مددگار ثابت ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب کو اسرائیل کی پیشکش قبول کرنی چاہیے؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہاں، بالکل ایسا کرنا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ تہران کی سرگرمیوں اور بیانات سے مکمل آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں اب کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جس سے وہ بات کر سکیں۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو فوجی مشق قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ایرانی قیادت کیا کر رہی ہے اور کیا کہہ رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے وہ ایرانی قیادت کے معاملے میں کچھ زیادہ آگے نکل گئے ہوں۔
روس اور یوکرین جنگ
امریکی صدر نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین کے ساتھ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کی اسٹارلنک تک رسائی محدود کرنے میں اپنے اور ایلون مسک کے کردار کی تردید بھی کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے اسٹار شیلڈ نظام تک رسائی محدود کرنے میں بھی امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، روس اور چین کے ساتھ جوہری ہتھیاروں سے متعلق معاہدہ کرے گا۔





